خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 294

خطبات محمود 295 * 1941 میں امید کرتا ہوں کہ اب جبکہ تحریک جدید کے بہت سے سال گزر چکے ہیں دوست اس چندہ کو جلد ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔اب ساتواں سال گزر رہا ہے اور اگلے سال دو تہائی سے زیادہ سفر طے ہو جائے گا اور ایک تہائی باقی رہ جائے گا۔اب بھی ساٹھ فیصدی حصہ گزر چکا ہے اور ساتواں دھا کہ شروع ہے۔ایسے وقت میں بہت زیادہ ہوشیاری اور بیداری کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے وقت کا کام بہت زیادہ ثواب کا موجب ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تہجد کی عبادت بڑی مقبول ہوتی ہے کیونکہ اس وقت انسان تھک کر چور ہو چکا ہوتا ہے اور جب ایسی حالت میں انسان عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو خدا کے حضور اس کی عزت بہت بڑھ جاتی ہے۔تحریک جدید کے یہ دن بھی ایسے ہی ہیں جیسے بارہ بجے رات کے بعد کا وقت شروع ہوتا ہے۔ایسے اوقات میں جو شخص بشاشت کے ساتھ دین کے کاموں میں حصہ لیتا اور مسلسل قربانی کرتا چلا جاتا ہے اس کی قربانی خدا تعالیٰ کے حضور بہت زیادہ مقبول ہوتی ہے کیونکہ وہ قربانی کر کے چور ہو چکا ہوتا ہے۔پہلے سالوں میں ابھی اس کے ذخیرے خرچ نہیں ہوئے تھے مگر آخر میں وہ چندے دے دے کر تھک چکا ہوتا ہے اس لئے آخری سالوں میں وہ پہلے سالوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ثواب حاصل کر لیتا ہے۔پس اس سال اور اگلے سال ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے چندوں کو جلد سے جلد ادا کریں تاکہ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کر سکیں۔" 1 بخاری کتاب الرقاق باب التَّوَاضُعِ الفضل 27 جون 1941ء) 2 السيرة الحلبية جز 3 صفحه 389 مطبوعہ مصر 1935ء 3 کہ: پھیکے اُبلے ہوئے چاول۔سوکھا آٹا 4 وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا (المائده :65)