خطبات محمود (جلد 22) — Page 293
* 1941 294 خطبات محمود دھوکا کیا اور ایک جھوٹی عزت حاصل کرنے کے لئے وہ سالہا سال تک جھوٹ بولتے رہے۔میرے نزدیک اگر ایک طرف مخلصین کا اخلاص ایسا ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہے تو دوسری طرف یہ دھوکا بازی بھی ایسی ہے جو عبرت کے طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے۔اگر کسی چیز کے متعلق لوگوں کو مجبور کیا جائے اور کہا جائے کہ وہ اس میں ضرور حصہ لیں تو اگر ان میں سے کوئی سستی کرے تو وہ درگزر کے قابل سمجھی جا سکتی ہے اور خیال کیا جا سکتا ہے کہ اس کی اپنی مرضی شامل ہونے کی نہیں تھی۔اسے چونکہ مجبور کیا گیا تھا اس لئے اس نے سستی دکھائی۔مگر جس قربانی کے متعلق بار بار کہا جاتا ہے کہ وہ طوعی اور نقلی۔اور اس میں شمولیت جبری نہیں بلکہ ہر شخص کی مرضی اور رضا و رغبت پر منحصر ہے اس میں اگر کوئی شخص اپنا نام پیش کر دیتا ہے اور پھر عملی رنگ میں کوئی قربانی نہیں کرتا اور نہ اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے تو اس کے متعلق سوائے اس کے اور کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک جھوٹی عزت کا دلدادہ ہے اور چاہتا ہے کہ وہ کام بھی نہ کرے اور اس کا بھی ان لوگوں میں آ جائے جو مخلصین ہیں۔پس چونکہ ایسے لوگوں نے ایک جھوٹی عزت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اس لئے میرے نزدیک یہ لوگ تعزیری طور پر اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے نام شائع کر دیئے جائیں تاکہ دوسروں کے لئے یہ نام عبرت کا موجب ہوں اور وہ کبھی اپنے آپ کو تطوع کے طور پر اس کام کے لئے پیش نہ کریں جس کے کرنے کے لئے وہ دل ہوں۔اور اگر وہ خوشی سے کسی قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تو پھر چاہے جان جان چلی جائے جائے انہیں اپنے عہد کو مرتے دم تک نبھانا چاہئے اور کسی قسم کی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ہاں ایسے لوگ جن کے ذمہ صرف ایک یا دو سال ہو ان کے نام شائع نہ کئے جائیں۔ان کو بھی اور مہلت دی جائے تاکہ اگر مجبوری سے ایسا انہوں نے کیا ہے تو معافی لے لیں اور اگر جان بوجھ کر غفلت کی ہے تو اصلاح کر لیں۔رقم : سے تیار نہ