خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 292

* 1941 293 خطبات محمود پچیس تیس ہزار کے قریب روپیہ وصول کے قابل رہتا ہے۔مگر ان بقایا داروں میں سے بعض دوست کچھ ایسے مستقل مزاج واقع ہوئے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اب جدید کا ساتواں سال گزر رہا ہے۔انہوں نے وعدہ کے باوجود کسی ایک سال بھی ادا نہیں کیا یا صرف ایک یا دو سال میں چندہ ادا کیا ہے اور باقی سالوں میں کوئی رقم ادا نہیں کی۔فرض کرو انہوں نے تیسرے سال چندہ لکھوایا تھا تو وہ سال گزر گیا اور انہوں نے چندہ میں ایک پیسہ بھی ادا نہ کیا۔پھر چوتھا سال شروع ہوا تو انہوں نے اصرار کر کے چوتھے سال میں اپنا چندہ لکھوایا اور کہا کہ اب وہ تیسرے سال کا بھی چندہ ادا کریں گے اور چوتھے سال کا بھی۔مگر چوتھا سال بھی گیا اور انہوں نے نہ تیسرے سال کا چندہ ادا کیا نہ چوتھے سال کا۔پھر پانچواں سال شروع ہوا اور انہوں نے اصرار کر کے کہا کہ پانچویں سال میں ہمارا اتنا وعدہ لکھ لیا جائے۔ہم پچھلے سالوں کا چندہ بھی ادا کریں گے اور اس سال کا بھی۔مگر نہ انہوں نے تیسرے سال کا چندہ دیا، نہ چوتھے سال کا چندہ دیا اور نہ پانچویں سال کا چندہ دیا۔پھر چھٹا سال شروع ہوا تو انہوں نے اپنا چندہ لکھوا دیا، مگر چھٹے سال میں بھی نہ انہوں نے تیسرے سال کا چندہ دیا، نہ چوتھے سال کا چندہ دیا، نہ پانچویں سال کا چندہ دیا اور نہ چھٹے سال کا چندہ دیا۔اب ساتواں سال شروع ہوا توا نہوں نے پھر اصرار کر کے اپنا وعدہ لکھوایا مگر ان کی حالت اب بھی وہی ہے کہ نہ تیسرے سال کا انہوں نے چندہ دیا ہے، نہ چوتھے سال کا چندہ دیا ہے، نہ پانچویں سال کا چندہ دیا ہے، نہ چھٹے سال کا چندہ دیا ہے، نہ ساتویں سال کا چندہ دیا ہے۔ایسے لوگ چونکہ متواتر اور مسلسل ایک لمبے عرصہ تک جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اور چونکہ انہوں نے دین سے تمسخر اور استہزاء کیا ہے۔اس لئے میں دفتر کو ہدایت کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی لسٹ بھی وہ شائع کر دے تاکہ اگر ایک طرف ان لوگوں کے نام یادگار رہیں جنہوں نے سچائی اور دیانت کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کیا تو دوسری طرف ان لوگوں کے نام بھی بطور یادگار محفوظ رہیں جنہوں نے جان بوجھ کر سلسلہ سے