خطبات محمود (جلد 22) — Page 234
1941 235 خطبات محمود تبدیلی مذہب پر کوئی پابندی عائد نہیں ہو گی۔ہم نے یہ دونوں سوال ان کے سامنے رکھ دیئے مسلم لیگ کے سامنے بھی اور کانگرس کے سامنے بھی۔ہماری غرض یہ تھی یہ ثابت ہو جائے کہ کانگرس مذہب میں دخل اندازی کرنا نہیں چاہتی اور مجھتی بھی ہمیں مسلم لیگ کے داخلہ کے حق کی حد تک ہمیں مسلمان ہے تو ہم انفرادی رنگ میں اپنی جماعت کے دوستوں کو اجازت دے دیں کہ وہ اس شرط کے ماتحت کہ احمدی اصولوں کے خلاف نہ چلیں جس جماعت میں چاہیں شامل ہو جائیں اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کانگرس مذہب میں دخل اندازی کرنا چاہتی ہے اور مسلم لیگ ہمیں مسلمان نہیں سمجھتی تو پھر دونوں میں شامل ہونے کی اجازت نہ دیں۔میرا مطلب یہ تھا کہ اس طرح کانگرس اور مسلم لیگ دونوں کا پول کھل جائے گا۔ورنہ میں جانتا تھا کہ نہ کانگرس اس طرف آئے گی اور نہ مسلم لیگ اس طرف آئے گی۔چنانچہ تین سال کانگرس سے خط و کتابت کرتے کرتے گزر گئے مگر آج تک وہ یہ کہنے کے لئے تیار نہیں ہوئی کہ کانگرسی حکومت میں مذہب تبدیل کرنے کی اجازت ہو گی۔وہ یہی کہے چلے جاتے ہیں کہ ہمارا فلاں ریزولیوشن دیکھ لو۔ہم ان سے کہتے ہیں یہ ریزولیوشن تم نے بنایا ہے اور تم ہی اس کے مطلب کو اچھی طرح جانتے ہو۔پس تم ہمیں یہ بتاؤ کہ آیا اس ریزولیوشن کے یہی معنے ہیں کہ ہر شخص کو تبدیلی مذہب کی اجازت ہو گی ؟ مگر وہ کہتے ہیں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے خود ریزولیوشن پڑھ کر نتیجہ نکال لو۔اس کا مطلب کانگرس ہی بیان کر سکتی ہے۔ہم کہتے ہیں کانگرس کے ہم سیکرٹری نہیں بلکہ تم ہو۔پس تم کانگرس سے پوچھ کر ہی ہم کو بتا دو کہ اس ریزولیوشن کا کیا مفہوم ہے اور آیا تبدیلی مذہب کی اجازت اس میں آتی ہے یا نہیں وہ نہ تو ریزولیوشن کا مفہوم بتاتے ہیں نہ ہمارے سوال کا صحیح جواب دیتے ہیں اور نہ کانگرس کے سامنے ہی یہ معاملہ پیش کرتے ہیں۔یہی حال مسلم لیگ کا ہے جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہاری ایک کمیٹی نے یہ قانون بنایا ہوا ہے اس کا کوئی علاج کرو تو کہتے ہیں یہ قانون صرف پنجاب میں ہے اور کہیں نہیں۔مگر جب ہم مگر