خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 233

1941 234 خطبات محمود ہم دونوں میں شامل ہونے سے روک دیتے۔بہر حال تین صورتیں ہمارے سامنے تھیں یا تو ہم دونوں میں شامل ہونے کی اجازت دے دیتے اس صورت میں کہ دونوں کے مقاصد ہمارے مقاصد کے مطابق ہوتے یا ہم دونوں میں شامل ہونے سے روک دیتے اس صورت میں کہ دونوں کے مقاصد ہمارے مقاصد کے خلاف ہوتے اور یا ہم دونوں میں سے کسی ایک میں اپنی جماعت کے افراد کو شامل ہونے اجازت دے دیتے اس صورت میں کہ ایک کے مقاصد تو ہمارے خلاف ہوتے اور دوسری کے مقاصد ہمارے خلاف نہ ہوتے۔اب ہم نے اس کے متعلق جو زین تجویز کی وہ یہ ہے کہ ہم نے دو بڑے بڑے امور کے لئے ایک ایسا تھا مسلم لیگ سے تعلق رکھتا تھا اور ایک ایسا تھا جو کانگرس سے تعلق رکھتا تھا۔مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والا امر یہ تھا کہ پنجاب مسلم لیگ کی پارلیمنٹری کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کوئی احمدی مسلم لیگ کی طرف سے ممبر نہیں بن سکتا۔اس کے ساتھ ہی ہر ممبر سے یہ اقرار لیا جاتا تھا کہ وہ اسمبلی میں جا کر یہ تحریک کرے گا کہ احمدی لوگ مسلمان نہیں ہیں اور انہیں مسلمانوں سے الگ فرقہ سمجھا جائے۔اب یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں کوئی احمدی مسلم لیگ میں شامل نہیں ہو سکتا۔جب مسلم لیگ کی طرف سے ہر ممبر سے یہ عہد لیا جاتا تھا کہ وہ اسمبلی میں جاکر اس بات کا فیصلہ کرائیں کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں تو کون بے غیرت احمدی ہو گا جو ایسی پارٹی میں شریک ہو اور کیا احمدی اسمبلی میں جا کر یہ کوشش کرے گا کہ اپنے احمدیوں کو ہی مسلمانوں سے الگ قرار دے۔دوسری طرف کانگرس سے ہم نے سوال کیا کہ تم ہمیں یہ تسلی دلا دو کہ کانگرسی حکومت میں مذہب کی تبدیلی کی اجازت ہو گی یعنی ایک ہندو کو یہ اجازت ہو گی کہ وہ اگر چاہے تو ہندو مذہب کو ترک کر کے مسلمان ہو جائے ایک عیسائی کو یہ اجازت ہو گی کہ وہ اگر چاہے تو عیسائی مذہب کو ترک کر کے مسلمان ہو جائے اور ایک سکھ کو بہ اجازت ہو گی کہ وہ اگر چاہے تو سکھ مذہب کو ترک کر کے مسلمان ہو جائے۔غرض