خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 235

1941 236 خطبات محمود کہتے ہیں کہ اس قانون کی موجودگی میں ہمیں کس طرح اعتبار آ سکتا ہے کہ آئندہ کوئی ایسا قانون دوسری مجالس نہیں بنائیں گی۔صاف طور پر کیوں یہ اعلان نہیں کر دیتے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے مسلم لیگ کے داخلہ کے لحاظ سے وہ مسلمان سمجھا جائے گا تو کہتے ہیں مصلحت نہیں کہ اس قسم کا اعلان کیا جائے۔ہم : کہتے ہیں اس مصلحت کے یہی معنے ہیں کہ جب کام کا موقع آئے تو ہم سے کام لیتے چلے جاؤ اور جب حقوق کا سوال پیدا ہو تو کہہ دو کہ ہم تمہیں مسلمان نہیں سمجھتے۔غرض ان دونوں جماعتوں نے اپنے رویہ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کی نیک نہیں۔کانگرس نے ہماری تین سال کی متواتر خط و کتابت کے بعد آج تک تسلیم نہیں کیا کہ تبلیغ کی اجازت کو وہ تسلیم کرتی ہے اور تبدیلی مذہب پر کوئی پابندی عائد نہیں کرتی۔در حقیقت وہ جانتے ہیں کہ اگر تبلیغ کی اجازت ہوئی تو نیت ہندوؤں نے ہی مسلمان ہونا ہے مسلمانوں نے ہندو نہیں ہونا۔پس وہ تبدیلی مذہب کی اجازت دیتے ہوئے ڈرتے ہیں لیکن بہر حال جب تک وہ اس کا کھلے بندوں اقرار نہیں کرتے کہ تبدیلی مذہب پر وہ کوئی پابندی عائد نہیں کرتے اس وقت تک کوئی احمدی کانگرس میں شامل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جب تک مسلم لیگ کے ارکان صاف طور پر یہ اعلان نہیں کر دیتے کہ احمدیوں کو بھی وہ مسلمان سمجھتے ہیں اور اسی طرح ہر اس حص کو جو کہلاتا ہو اغراض مسلم لیگ کے لئے وہ مسلمان قرار دیتے ہیں اس وقت تک مسلمان کوئی احمدی مسلم لیگ میں شامل نہیں ہو سکتا۔وہ بہانہ بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قسم کا اعلان مصلحت کے خلاف ہے حالانکہ مصلحت کے خلاف ہونے کے معنے یہی ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا اعلان کیا تو کثرت سے مسلمان مخالف ہو جائیں گے اور اگر مسلم لیگ کے اکابر کے نزدیک مسلمانوں کی کثرت نے ہماری مخالفت ہی کرنی ہے تو ایسی جماعت میں شامل ہونے کی ہمیں دعوت دینا ان کے لئے جائز ہی کس طرح ہو سکتا ہے؟ اور احمدیوں میں سے 6