خطبات محمود (جلد 22) — Page 199
1941 200 خطبات محمود چھلانگ لگا کر کسی پر حملہ کرے تو وہ اپنا بچاؤ نہیں کر سکتا۔بٹیر تلیر وغیرہ کیسے چھوٹے چھوٹے پرندے ہیں لیکن جب کوئی شخص انہیں پنجرے سے نکالنے لگے اور وہ چونچ ماریں تو آدمی گھبرا کر ہاتھ باہر کھینچ لیتا ہے۔تو کوئی چیز ایسی نہیں جس کی حفاظت کا سامان اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو۔انسان ہی ایک سے جس کی حفاظت کا کوئی ظاہری سامان نہیں یعنی اسے نہ تو اللہ تعالیٰ نے ہے ویسے ہاتھ دیئے ہیں جیسے بعض جانوروں کو پنجے، نہ ویسے ہونٹ دیئے ہیں جیسے بعض کو چونچ، نہ ویسی لاتیں دی ہیں جیسی دوڑ کر جان بچانے والے جانوروں کو دی ہیں، نہ اس کا قد اتنا چھوٹا بنایا ہے کہ وہ چھپ کر اپنا بچاؤ کر سکے، نہ پر دیئے ہیں کہ ہوا میں اڑ جائے اور نہ اسے پانی کے نیچے رہنے والا بنایا ہے کہ اس کی سطح کے نیچے جائے۔سب سے ننگا وجود یہی ہے اور سب سے ننگا رہنے کا اسے ہی دیا حکم گیا ہے۔اسے سطح زمین پر رہنے کا حکم ہے اور قانون قدرت ہی ایسا ہے کہ اس کی صحت کے لئے جو سامان ہیں مثلاً سورج اور ہوا وغیرہ یہ بھی سطح زمین پر رہنے سے۔ہی وابستہ ہیں۔سانپ اور گھیسیں وغیرہ کئی ایسے جانور ہیں جو چھ چھ ماہ تک زمین ره کے نیچے ہوا اور پانی کے بغیر رہتے ہیں مگر انسان تین دن بھی ایسی جگہ نہیں سکتا۔مچھلی پانی میں بہت لمبا غوطہ لگا سکتی ہے، پرندے ہوا میں کس طرح اڑتے ہیں مگر انسان نہ زمین کے نیچے رہ سکتا ہے، نہ پانی میں دیر تک غوطہ لگا سکتا ہے اور نہ ہوا میں اڑ سکتا ہے۔اس کی حفاظت کا سامان اللہ تعالیٰ نے اس کے دماغ میں رکھا اور یہ دماغ سے کام لے کر چونچوں اور پنجوں کی جگہ ، مچھلی کے کانٹے کی جگہ، ہاتھی کے سونڈ کی جگہ، گھوڑے اور گدھے کے گھر کی جگہ تلوار نکالتا ہے، نیزے اور خود استعمال کرتا ہے اور گھونگے کے خول کی بجائے زرہ بکتر پہنتا ہے۔تو ہیں، بندوقیں، مشین گنیں ، ہم اور ہوائی جہاز کام میں لاتا ہے اور ان ذرائع سے اپنی حفاظت کرتا ہے مگر انسانی تمدن ایسا ہے کہ باوجودیکہ ایسی ایجادات کی قابلیت اللہ تعالیٰ نے اس کے دماغ میں رکھی ہے پھر بھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کچھ حصہ مخلوق کا