خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 198

1941 199 خطبات محمود ہوتا ہے۔ان کو اس نے ایسی طرز پر سمٹنے کی طاقت دی ہے کہ پاؤں کے نیچے آکر بھی وہ زندہ رہتے ہیں۔بیر بہوٹی کتنا چھوٹا سا کیڑا ہے۔بچپن میں ہم اس سے کھیلا کرتے تھے اور برسات کے موسم میں بچے بالعموم اس کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسے خدا تعالیٰ نے ایسی سمٹنے کی طاقت دی ہے کہ پکڑنے لگیں تو مُردہ کی طرح گر پڑتا ہے اور پاؤں کے نیچے آکر بھی بچ جاتا ہے۔چیونٹا کیا چھوٹی سی چیز مگر اس کے منہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسی طاقت دی ہے کہ جب وہ آدمی کو کاٹتا تو قوی سے قومی آدمی بھی بلبلا اٹھتا ہے۔اس کے منہ میں ایسی طاقت جب وہ کسی کو کاٹے تو انسانی جسم سے اس کا چھڑانا قریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔مجھے بچپن کا اپنا ہی ایک واقعہ یاد ہے۔میری عمر کوئی پانچ چھ سال کی ہو گی میرے ہاتھ میں مٹھائی تھی غالباً پیڑا تھا جو میں کھا رہا تھا۔کوئی شخص ہماری ڈیوڑھی کے آگے جانور ذبح کر رہا تھا اور بچے وہاں بیٹھ کر دیکھ رہے تھے۔میں بھی وہاں بیٹھا دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ مٹھائی بھی کھاتا جاتا تھا۔معلوم ہوتا ہے میں نے اپنا ہاتھ کہیں نیچا کیا اور کوئی چیونٹا چڑھ گیا۔جب میں نے بغیر دیکھے مٹھائی کو منہ میں ڈالنا چاہا تو اس نے میرے ہونٹ پر کاٹ لیا۔جو شخص جانور ذبح کر رہا تھا اس نے اسے چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر اس نے نہ چھوڑا اور آخر اس نے چھری کے ساتھ اسے کاٹ دیا۔گویا وہ مر کر وہاں سے چھوٹا۔تو دیکھو کتنا چھوٹا سا کیڑا ہے مگر اس کی بھی حفاظت کا سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دیا ہے۔گھونگا کتنا نازک ہوتا ہے اس کے ننگے جسم پر پاؤں پڑ جائے تو فوراً مر جائے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک سخت خول بنا دیا ہے جس کے اندر وہ چھپ جاتا ہے۔مچھلی کتنا نازک جانور ہے مگر دیکھو اللہ تعالیٰ نے اسے کیسا سخت کانٹا ہے دیا ہے جب وہ کانٹا مارتی ہے تو بڑے سے بڑا آدمی بلبلا اٹھتا ہے۔بلی گھر یلو جانور مگر عورتیں اور بچے بالعموم اس سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں آنکھیں نہ نوچ لے۔اسے اللہ تعالیٰ نے چھلانگ لگانے کی طاقت اور تیز پنجے دیئے ہیں اور جب وہ