خطبات محمود (جلد 22) — Page 200
خطبات محمود 201 1941 ان چیزوں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔یہ محکوم قومیں ہوتی ہیں جن کو حاکم اقوام بندوق، توپ، تفنگ اور دیگر آلات حرب رکھنے سے روک دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو بغیر سامان حفاظت کے بنا کر بتایا ہے کہ اسے اپنی حفاظت کے لئے بیرونی سامان درکار ہیں۔مگر غالب حکومتیں حکم دیتی ہیں کہ محکوم قوم کو ان سامانوں کے اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں۔مثلاً بندوقوں کی اجازت نہیں، توپوں کی اجازت نہیں یا مثلاً یہ ہوائی جہازوں کا زمانہ ہے ان کی اجازت نہیں۔غرض ہر زمانہ کے لحاظ سے جو سامان حفاظت کے ہیں حاکم اقوام محکوم اقوام کو ان سے محروم کر دیتی ہیں اور وہ کوئی بھی سامان اپنی حفاظت کا نہیں رکھ سکتیں۔اس لئے سوال یہ ہے کہ پھر ایسے لوگوں اور ایسی قوموں کی حفاظت کا کیا ذریعہ ہے؟ وہ خدا جس نے گھونگے کی حفاظت کے لئے خول دیا ہے، طوطے کو کاٹنے والی چونچ دی ہے، مرغی بٹیر اور تلیر تک کو چونچ دی ہے ، جس نے بلی کو تیز ناخن اور کودنے کی طاقت دی ہے، جس نے کو پانی کی سطح کے نیچے چھپا دیا ہے اور پرندوں کو ہوا میں اڑنے کے لئے ہیں اس نے بے شک انسان کو دماغی قابلیت دی ہے مگر اس کے نتیجہ میں ایسی قومیں بھی ہیں جنہوں نے دماغی طاقتوں سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا اور بعض دوسری قوموں کو محروم کر دیا۔دنیا میں باقی جو جاندار ہیں ان میں سے کسی ایک کو کبھی بحیثیت قوم کوئی حفاظت کے سامان سے محروم نہیں کر سکتا۔کسی بڑے سے بڑے بادشاہ میں یہ طاقت نہیں کہ حکم دے سکے کہ آئندہ کے لئے کبوتروں یا چڑیوں کے پر نہیں ہوں گے یا یہ کہ آئندہ مچھلیاں پانیوں میں نہیں رہیں گی یا سانپ اور گھیسیں زمین کے نیچے نہ رہ سکیں گے۔دنیا کی کوئی حکومت یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ بلیوں کے پنجے نہیں ہوں گے۔مگر دنیا میں ایسے انسان ضرور ہیں جو دوسرے انسانوں کو ان کی حفاظت کے سامانوں سے محروم کر دیتے ہیں۔اس لئے سوال یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ قوموں کی قومیں حفاظت کے ظاہری سامان کے استعمال سے محروم کی جاسکتی ہیں تو ایسے لوگ کیا کریں۔اس کے تو بخشے