خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 153

1941 154 خطبات محمود کہ اس نے ہاتھی دیکھ لیا۔جب بعد میں وہ سب ایک جگہ جمع ہوئے تو آپس میں بحث کرنے لگ گئے۔ایک نے کہا کہ ہاتھی نرم نرم لچکدار اور موٹی سی چیز ہوتی ہے اور اس کے آگے ایک سوراخ ہوتا ہے۔دوسرے نے کہا کہ بالکل غلط وہ تو ایک پتلی اور باریک سی چیز ہوتی ہے اور اس کے آگے بالوں کا گچھا ہوتا ہے۔تیسرے نے کہا ہرگز نہیں وہ تو سیدھی آسمان کی طرف جاتی ہوئی ایک موٹی سی چیز ہوتی ہے۔چوتھے نے کہا ہاتھی تم میں سے کسی نے بھی نہیں دیکھا وہ تو ایک ڈھول کی طرح چپٹی سی چیز ہوتی ہے۔جس نے پیٹھ پر ہاتھ مارا تھا اس نے سمجھ لیا کہ ہاتھی ڈھول کی طرح چپٹی سی چیز ہوتی ہے، جس نے دم پر ہاتھ مارا تھا اس نے خیال کر لیا کہ وہ ایک پتلی اور باریک سی چیز ہوتی ہے جس کے آگے بالوں کا گچھا ہوتا ہے۔جس نے سونڈ پر ہاتھ رکھا تھا اس نے سمجھ لیا کہ وہ ایک نرم نرم لچکدار اور موٹی سی چیز ہوتی ہے اور اس کے آگے ایک سوراخ ہوتا ہے اور جس نے اس کی ٹانگوں پر ہاتھ مارا تھا اس نے سمجھ لیا کہ وہ آسمان کی طرف جاتی ہوئی ایک موٹی سی چیز ہوتی ہے۔یہی الله حال ان احمدیوں کا ہے جنہوں نے قرآن اور رسول کریم صلی ایم کی احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کتابوں کو اچھی طرح نہیں پڑھا۔انہوں نے احمدیت کو بھی نہیں دیکھا بلکہ احمدیت کے کسی کونے کو دیکھا ہے۔جب ہم لیکچر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدیت ایک نہایت ہی قیمتی چیز ہے اسے ضائع مت کرو اور اس کی قدر و قیمت کو سمجھو تو وہ حیران ہوتے ہیں اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ یہ کیوں ہمیں دھوکا دے رہے ہیں۔احمدیت تو ایک معمولی سی چیز ہے۔رہی رہی، رہی نہ رہی۔ان کا احمدیت کے ساتھ اخلاص صرف اتنا ہی ہوتا ہے جتنا کسی کو اپنی قوم کی بیچ ہوتی ہے۔وہ اپنے آپ کو احمدی کہیں گے۔احمدیت کے لئے بعض دفعہ لڑنے کے لئے بھی تیار ہو جائیں گے مگر یہ نہیں سمجھیں گے کہ احمدیت ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ نہ صرف ان کا، نہ صرف ان کی اولادوں کا بلکہ قیامت تک ان کی تمام نسل کا سکھ اور آرام وابستہ ہے اور نہ صرف اس جہان کا سکھ اور آرام