خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 152

1941 153 خطبات محمود ضائع ہونے کا نقصان صرف اس کو نہ ہو بلکہ اس کی اولاد کو بھی نقصان پہنچانے والا ہو تو ایسی حالت میں اس چیز کی اہمیت اور بھی بڑھ جائے گی اور اگر وہ چیز ایسی ہو که صرف اس کی اولاد پر ہی اس کا اثر نہ ہو بلکہ اولاد کی اولاد اور اس اولاد کی وہ اولاد بھی قیامت تک اس کے نتیجہ میں دکھ اور تکلیف میں مبتلا رہنے والی ہو تو خیال کرے گا کہ میں اس چیز کو کیوں ترک کروں جبکہ قیامت تک میری نسل کے افراد اس کی وجہ سے دکھ اٹھاتے چلے جائیں گے۔اور اگر کوئی چیز ایسی ہو جو مستقبل سے تعلق رکھنے والی ہو اور اس کی اولاد در اولاد کو اس کے نہ ہونے کی وجہ سے کلیف پہنچنے کا خطرہ ہو تو پھر بھی کوئی انسان یہ خیال کر سکتا ہے کہ دنیا ایک قید خانہ ، اگر اس جہان میں تکلیف پہنچی بھی تو کیا ہوا اگلے جہان کا سکھ تو حاصل ہو جائے گا لیکن اگر کوئی چیز ایسی ہو کہ اس کے ذریعہ امن اور آرام صرف اس دنیا میں ہی حاصل نہ ہوتا ہو بلکہ اگلے جہان میں بھی حاصل ہوتا ہو تو وہ ہر قسم کی موت، ہر قسم کی تکلیف اور ہر قسم کی تنگی برداشت کر لے گا مگر اس بات کو برداشت نہیں کرے گا کہ وہ چیز اس کے ہاتھ سے نکل جائے کیونکہ وہ سمجھ لے گا کہ اگر وہ چیز اس کے ہاتھ سے گئی تو اس کا اور اس کی اولاد کا امن بھی گیا۔اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔میں جانتا ہوں کہ قرآن کو نہ پڑھنے اور اس کو سمجھنے کا اپنے اندر نہ رکھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ اس اہمیت کو نہیں سمجھتے بلکہ احمدیوں میں بھی بعض لوگ ایسے موجود ہیں جو احمدیت کی ضرورت کو نہیں سمجھتے۔یہی وجہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر انہیں ٹھوکر لگ جاتی ہے، چھوٹی چھوٹی بات پر انہیں دھکا لگ جاتا ہے اور چھوٹی چھوٹی بات پر وہ احمدیت کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ان چار نابینوں کی سی ہے جو ہاتھی کو دیکھنے کے لئے گئے تھے ان میں سے ایک نے سونڈ پر ہاتھ مارا اور سمجھ لیا کہ اس نے ہاتھی دیکھ لیا۔دوسرے نے دم پر ہاتھ مارا اور سمجھ لیا کہ اس نے ہاتھی دیکھ لیا۔تیسرے نے پاؤں پر ہاتھ مارا اور سمجھ لیا کہ اس نے ہاتھی دیکھ لیا۔چوتھے نے پیٹھ پر ہاتھ لگایا اور سمجھ لیا ملکہ