خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 154

1941 155 خطبات محمود رو احمدیت سے ہے بلکہ اگلے جہان کا سکھ اور آرام بھی احمدیت سے ن ہی ہے۔ان کے نزدیک احمدیت صرف اس بات کا نام ہے کہ زید نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔اور بکر نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور جب ان کے ساتھ کوئی حسن سلوک سے تو پیش نہیں آتا تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے احمدیت کو دیکھ لیا اور اس ایک یا شخصوں پر قیاس کر کے کہنے لگ جاتے ہیں کہ سارے احمدی ہی ایسے ہوتے ہیں گویا وہی نابینوں والی بات ان میں پائی جاتی ہے جن میں سے ایک نے سونڈ پر ہاتھ لگا کر سمجھ لیا تھا کہ اس نے ہاتھی بھی دیکھ لیا، دوسرے نے بھی دم پر ہاتھ لگا کر سمجھ لیا کہ اس نے ہاتھی دیکھ لیا، تیسرے نے ٹانگوں پر ہاتھ لگا کر سمجھ لیا تھا کہ اس نے ہاتھی دیکھ لیا اور چوتھے نے پیٹھ پر ہاتھ لگا کر سمجھ لیا تھا کہ اس نے ہاتھی دیکھ لیا۔انہوں نے بھی نہ احمدیت کو دیکھا ہے اور نہ اس کی شکل و صورت کو۔البتہ انہوں نے احمدیت کے ہاتھی کے کسی حصہ پر اپنا ہاتھ رکھا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ انہوں نے احمدیت کو دیکھ لیا مگر وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو سمجھا ہے جو احادیث کو جانتے ہیں اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ احمدیت ایک ایسی قیمتی چیز ہے کہ جس طرح ایک اکلوتے بچے والی ماں کو جو آپ بڑھیا ہو چکی ہو، اس اکلوتے بچے والی ماں کو جس کا بچہ چھوٹا ہو، اس اکلوتے بچے والی ماں کو جس کے پاس اپنے بچہ کے لئے چھوڑ جانے کے لئے کوئی مال و دولت نہ ہو رات دن اپنے بچہ کے متعلق دھڑکن لگی رہتی ہے اسی طرح بلکہ اس سے سے بھی زیادہ احمدیت کے متعلق ہر احمدی کے دل کو دھڑکن لگی رہنی چاہئے۔وہ جنہوں نے نابینوں کی طرح احمدیت کو دیکھا، جنہوں نے دم کو ہاتھ لگایا یا سونڈ کو ہاتھ لگایا یا پیٹھ کو ہاتھ لگایا یا ٹانگوں کو ہاتھ لگایا اور سمجھ لیا کہ انہوں نے احمدیت کو دیکھ لیا۔وہی ہیں جو ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اور آج اگر کچھ عقیدہ رکھتے ہیں تو کل کوئی تو کل کوئی اور عقیدہ رکھنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو اس قسم کے نابینا احمدی ایسی مضحکہ خیز حرکت کرتے ہیں کہ وہ کسی مخلص احمدی کی زندگی کو بھی