خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 130

1941 131 خطبات محمود اور نہ وہ جو مصیبت کے وقت ایسا کرنے والے ہوتے ہیں بلکہ مومن کا کمال یہ ہوتا ہے کہ خوشی اور مصیبت دونوں وقت خدا تعالیٰ کو راضی رکھنے کی کوشش کرے اور اس کے منشاء کو پورا کرے۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فطرت پر عمل کرنے والے نہیں بلکہ شریعت پر عمل کرنے والے ہیں۔فطرت کے مطابق عمل کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس انسان میں استقلال نہیں۔جب تک حالات اس کی فطرت کے مطابق ہوں وہ ٹھیک چلتا جاتا ہے اور جب حالات میں تبدیلی ہو نیکی کو چھوڑ دیتا ہے۔جس شخص کی فطرت ایسی ہے کہ وہ خوشی میں خدا تعالیٰ یاد کرتا ہے جب تک حالات اس کی فطرت کے مطابق ہوں یعنی خوشی اور راحت کے سامان پیدا رہیں وہ ایسا کرتا ہے مگر جب حالات اس کی فطرت کے مطابق نہ رہیں وہ خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے یا جس کی فطرت ایسی ہے کہ مصیبت کے وقت میں اسے خدا تعالیٰ یاد آتا ہے جب تک اس پر مصائب رہیں وہ خدا تعالیٰ کو یاد ہے مگر جب ذرا خوشی کا زمانہ آئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ نمازوں وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ایسے لوگ گویا اندھا دھند اپنی فطرت کے مطابق چلتے جاتے ہیں اور نتائج کو مد نظر نہیں رکھتے اور جب وہ اس راستہ سے ہٹ جائیں جو ان کی فطرت کے مطابق ہے تو وہ حیران و پریشان ہو جاتے ہیں اور قوت عملیہ بالکل معطل ہو کر رہ جاتی ہے لیکن جو شخص سوچ سمجھ کر کام کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ سب حالتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اس لئے ہر حال میں اس کے منشاء کے مطابق چلنے کی کوشش کرتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام کو ابتداء ہر قسم کے مصائب پیش آئے اور پھر ہر قسم کی ترقیات بھی حاصل ہوئیں مگر انہوں نے دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی کوشش کی اور یہ امر بتاتا ہے کہ ان کی نیکیاں اپنے فطری میلان کے مطابق نہ تھیں بلکہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے تھیں۔مکہ کی زندگی میں ان کتنی مصیبتیں آئیں ان کا خیال کر کے بھی انسان کانپ جاتا ہے۔آپ لوگ غور کریں کہ کتنے ہیں جو ایسے مصائب کو برداشت کر سکتے ہیں؟ ان کو گرم ریت پر