خطبات محمود (جلد 22) — Page 131
1941 132 خطبات محمود لکھا ہے اور عین دو پہر کے وقت لٹا دیا جاتا اور پھر رسیاں باندھ کر گھسیٹا جاتا اور کنکریلی زمین پر بے تحاشہ کھینچا جاتا تھا حتی کہ جسم سے خون بہنے لگتا مگر وہ سب کچھ صبر سے برداشت کرتے اور یہ حالت ایک لمبے عرصہ تک جاری رہی۔ایک صحابی کے متعلق کہ ایک دفعہ انہوں نے غسل کے لئے اپنا کرتا اتارا تو اس وقت کچھ اور لوگ بھی وہاں تھے۔انہوں نے دیکھا کہ ان کی پیٹھ کا چمڑا بالکل بھینس کے چمڑے کی طرح سخت، گھر درا اور سیاہ تھا۔انہوں نے دریافت کیا کہ کیا یہ کوئی بیماری ہے تو اس صحابی نے بتایا کہ بیماری کوئی نہیں بلکہ جب ہم اسلام لائے تو ہمارے مالک (یہ سلوک عام طور پر غلاموں سے کیا جاتا تھا) ہم کو تپتی ہوئی ریت پر ننگا کر کے دو پہر کے وقت لٹا دیتے تھے اور اس سے خون پک پک کر جل گیا اور یہ حالت ہو گئی 2 اگر ان کا زمانہ اس پر ختم ہو جاتا تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ بعض لوگ طبعاً ضدی ہوتے ہیں اور ان کو جتنا ڈانٹا اور دبایا جائے وہ اتنا ہی زیادہ مقابلہ کرتے ہیں۔اس لئے صحابہ کی یہ حالت کسی نیکی کی وجہ سے نہ وجہ سے نہ بھی بلکہ ان کے فطری میلان کے مطابق تھی۔ان کی فطرت ہی ایسی تھی۔اس لئے جب ان پر ظلم ہوئے تو وہ مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے مگر پھر اللہ تعالیٰ اسلام کا زمانہ لایا اور مسلمانوں کو غلبہ اور فتوحات حاصل ہوئیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے اس وقت بھی اسی تقویٰ کا نمونہ دکھایا اور نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور دوسری نیکیوں میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔اسی طرح قربانیاں کرتے رہے۔اس لئے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ضدی طبیعت کے تھے بلکہ ماننا پڑتا ہے کہ مصائب کے وقت میں بھی وہ خدا تعالیٰ کی خاطر نیک اعمال بجا لاتے تھے اور خوشیوں میں بھی اسی کے لئے نیکیاں کرتے تھے۔یا اگر اللہ تعالیٰ شروع سے ہی اسلام کو مدنی زندگی عطا کر دیتا ادھر رسول کریم صلی ا ہم دعویٰ کرتے اور ادھر خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل ہو جاتی تو صحابہ کے نیک نمونہ کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا تھا کہ ان لوگوں کو آرام پہنچا اس لئے وہ نیکیاں کرتے رہے۔کیا - پتہ کہ اگر ان کو مصائب پیش آتیں تو ان کا ایمان کیسا رہتا۔ان کی طبیعت ہی ایسی