خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 129

1941 130 خطبات محمود کرتا ہے یا یہ دونوں معاملے بدلتے رہتے ہیں اور اگر وہ کبھی لمبے زمانہ تک قبض کا معاملہ کرتا ہے تو آخر میں ضرور بسط کا معاملہ کرتا ہے اور انجام کار کشائش عطا کر ہے اور بالعموم انجام اچھا ہوتا ہے۔سوائے اس کے کہ دنیا کے مصائب اس کے علم میں اس مومن کے لئے آخرت کے لحاظ سے بہتر ہوں۔ایسی حالت میں تو بعض اوقات انجام بھی تکلیف کا ہی ہوتا ہے۔مگر اس کا عام طریق یہی ہے کہ مومن سے وہ ابتداء قبض کا اور آخر کار بسط کا معاملہ کرتا ہے اور مومن جماعتوں سے بھی عام طور پر اس کا معاملہ اسی رنگ میں ہوتا ہے۔یعنی ابتداء قبض کا ہوتا ہے مگر آخر ایک دن ایسا آتا ہے کہ بسط کا معاملہ ہو جاتا ہے اور ترقیات عطا کر دیتا ہے اور ان دونوں حالتوں میں وہ اپنے بندے کا امتحان کر کے دنیا کو دکھاتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ دونوں حالتوں میں اچھا رہا۔دنیا میں کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ مصیبت کے ایام میں زیادہ اچھے اور شاندار اعمال کرتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مصائب کے وقت گھبرا جاتے ہیں اور خوشیوں کے زمانہ میں اچھے رہتے ہیں۔یہ دراصل فطری نقائص ہوتے ہیں ان کو نیکی نہیں کہا جا سکتا۔بعض کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ جب ان پر مصیبت کا وقت آئے تو ان کے اخلاق نمایاں طور پر اُبھر آتے ہیں یا جب خوشی کا وقت آئے تو ان کے اخلاق زیادہ اُبھر آتے ہیں۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو کھانے کو ملتا رہے، بیوی بچے اچھے رہیں تو وہ خوب نمازیں پڑھتے، روزے رکھتے اور نیک اعمال بجا لاتے ہیں لیکن جب ذرا بھی مصیبت آ جائے تو نمازیں چھوڑ دیتے ہیں، روزہ رکھنا ترک کر دیتے ہیں اور کہنے لگ جاتے ہیں کہ بس بہت نمازیں پڑھ کر اور روزے رکھ کر دیکھ لیا ہے کچھ نہیں بنتا۔لیکن بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ جو نہی ذرا کھانے کو ملا نمازوں میں سست ہو جاتے ہیں، نیک اعمال سے غافل ہو جاتے ہیں، لیکن جب کوئی گھر میں بیمار ہوا فوراً مصلی بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔لیکن نہ تو وہ لوگ جو خوشی کے وقت میں اچھے اخلاق دکھاتے اور اپنی حالت کو درست رکھتے ہیں شریعت یا اخلاق کے مطابق عمل کرنے والے ہوتے ہیں ہوتی۔