خطبات محمود (جلد 22) — Page 13
$1941 13 خطبات محمود الل ولم کا کہلاتی ہے جس میں صرف اتفاقی طور پر چند آدمی مارے گئے تھے ورنہ رسول کریم صلى ال ل الر کا حکم یہی تھا کہ کوئی لڑائی نہ کی جائے۔چنانچہ ان اتفاقی مارے جانے والوں علیحدہ کر کے جو انفرادی طور پر منفرد مسلمانوں سے لڑ پڑے تھے اگر دیکھا جائے حقیقت صاف طور پر نمایاں نظر آتی ہے کہ فتح مکہ کے وقت نہ تلواریں میانوں سے نکالی گئیں، نہ گردنیں کٹیں اور نہ ہی خونریزی ہوئی۔پس فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کا حملہ جنگ کے لحاظ سے کمزور ترین حملہ تھا آخر خود ہی غور کرو کیا انہوں نے کسی زبر دست حریف کے مقابلہ میں کوئی خونیں جنگ کی؟ کیا انہوں نے دشمن کے سو دو سو یا ہزار آدمیوں کو مارا؟ یا کیا خود ان کے لشکر میں سے سو دو سویا ہزار آدمی مارے گئے ؟ کچھ بھی نہیں ہوا۔مگر یہ جو حقیر سی جنگ تھی جس میں کوئی خونریزی نہیں ہوئی ، کوئی قابل ذکر لڑائی نہیں اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ادھر آپ مکہ میں داخل ہوتے ہیں اور ادھر مکہ والے ہیں ہم ہار گئے پس گو فتح مکہ جنگ کے لحاظ سے ایک ادنی ترین جنگ تھی مگر اس کے نتائج نہایت عظیم الشان نکلے۔ایسا کیوں ہوا؟ صرف اس لئے کہ مکہ کے سفر کی ایک ایک منزل پر کہیں بدر کھڑا تھا، کہیں احد کھڑا تھا، کہیں احزاب کھڑا تھا، کہیں خیبر کھڑا تھا۔اور مکہ والے سمجھتے تھے کہ یہ بدر میں سے بدر میں سے بھی گزر چکے ہیں، احد میں سے بھی گزر چکے ہیں، احزاب میں سے بھی گزر چکے ہیں، خیبر میں بھی گزر چکے ہیں اب خالی مکہ رہ گیا ہے اس کے سوا ہمارے پاس کوئی چیز نہیں رہ گئی۔تو جن جنگوں سے لوگوں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا تھا ان کے معمولی سے نتیجہ سے سارا عرب مسلمان ہو گیا۔بدر جس نے مکہ کو فتح کیا اس سے عرب نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔احد جس نے مکہ فتح کیا اس سے عرب نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔احزاب جس نے مکہ کو فتح کیا اس سے عرب نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔خیبر جس نے مکہ کو فتح کیا اس سے عرب نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔غزوۂ بنو مصطلق جس نے مکہ کو فتح کیا اس سے عرب نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔اسی طرح اور کئی چھوٹی بڑی جنگوں سے جو ހނ۔