خطبات محمود (جلد 22) — Page 14
$1941 14 خطبات محمود نہ ہیں تیس کے قریب ہیں اور جو مکہ کی فتح کا موجب ہوئیں اہل عرب نے کوئی فائدہ اٹھایا مگر جب مکہ میں امن اور سکون کے ساتھ لشکر اسلام دا اسلام داخل ہوا تو انہوں نے خود ہی کہہ دیا کہ آج ہم ہار گئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا دار لوگ نتائج کے ظہور کے وقت فائدہ اٹھایا کرتے ہیں۔کیونکہ گزشتہ فتوحات ان کے دلوں پر کوئی نہ کوئی نشان چھوڑ چکی ہوتی ہیں۔بدر کی ضرب نے اہل مکہ کے دل پر ایک نشان ڈالا۔پھر احد میں فتح ہوئی تو اس ضرب نے ان کے دل پر ایک اور نشان ڈال دیا۔احزاب کی ضرب نے ان کے قلور تیسرا نشان ڈالا اور خیبر کی ضرب نے ایک چوتھا نشان ان کے دل پر قائم کر دیا۔جب یہ ساری ضربیں اپنے اپنے نشان ان کے قلوب پر چھوڑ گئیں تو ان کا مکمل نتیجہ فتح مکہ کی صورت میں ظاہر ہو گیا اور عرب کے لوگوں کو اسلام نصیب پر ہو گیا۔پس انسان کو سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کا یقین دلانے والی بات خصوصاً ان لوگوں کو جو ایمان نہیں رکھتے اور دنیا دار ہوتے ہیں بے سر و سامانی کی حالت میں الہی سلسلوں کی کامیابی ہوتی ہے۔درمیانی کامیابیاں اعلیٰ تقویٰ والے لوگوں کو ایمان بخشتی ہیں اور آخری کامیابی ادنی تقویٰ والوں کو ایمان بخشتی ہیں۔پھر کچھ عرصہ تک تو یہ اثر باقی رہتا ہے مگر جیسا کہ قاعدہ ہے جب کسی قوم کو لمبے عرصہ تک کامیابیاں اور فتوحات ملیں تو وہ یہ خیال کرنے لگ جاتی ہے کہ یہ فتوحات اور کامیابیاں ہمارا ورثہ ہیں اور ان فتوحات کے حاصل کرنے کا ہماری قوم کو حق حاصل تھا۔تب رفتہ رفتہ ایمان کی طاقت جو تمام کامیابیوں کا موجب ہوتی ہے کمزور ہونی شروع ہو جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو لو عرب کی فتح شام کی فتح کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہے؟ عربوں کی نہ منظم فوج تھی نہ ان کے پاس خزانہ تھا نہ پولیس تھی اور نہ ان کے پاس قضاء تھی کہ سارے ملک کے جھگڑوں کا وہ فیصلہ کر سکتے۔مختلف قبائل گو اپنے اپنے حاکموں کے ماتحت تھے مگر ہر فرد آزاد تھا۔صرف موٹی موٹی غلطیوں کے متعلق