خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 12

$1941 12 خطبات محمود ہواان نتیجہ نہیں تھی جو رسول کریم صلی ا م کے بعض صحابہ کو مکہ کی بعض گلیوں میں کرنی پڑی۔مکہ کی فتح اس لشکر کی آمد کا نتیجہ نہیں تھی جس کو لے کر رسول کریم صلی لینی اس سفر پر روانہ ہوئے تھے بلکہ مکہ فتح ہوا بدر کے ذریعہ سے، مکہ فتح ہوا احد کے ذریعہ سے مکہ فتح ہوا خیبر کے ذریعہ سے، مکہ فتح ہوا احزاب کے ذریعہ سے، مکہ فتح ہوا اُن دسیوں چھوٹی بڑی جنگوں کے ذریعہ سے جو وقتا فوقتا رسول کریم صلی العالم آپ کے صحابہ کو کفار سے لڑنی پڑیں۔پس مکہ کی فتح صرف اس لشکر کی وجہ سے نہیں تھی جس لشکر کو رسول کریم صلی ال کی آخری سفر پر لے کر چلے تھے بلکہ وہ نتیجہ تھی اُن بیسیوں واقعات کا جو پہلے نو (۹) سال میں متواتر پیش آتے رہے ، وہ نتیجہ تھی اُن واقعات کا بھی جو تیرہ سالہ مکی زندگی میں آپ کو پیش آتے رہے لیکن ان میں سے کوئی واقعہ بھی تو لوگوں کی آنکھیں اس طرح کھولنے کا موجب نہیں ہوا جس طرح مکہ کی فتح لوگوں کی آنکھیں کھولنے کا موجب ہوئی۔بدر کی جنگ فتح ہوئی اور دراصل مکہ کا ایک دروازہ فتح ہو گیا مگر مکہ کے لوگوں اور عرب کے لوگوں کو نظر نہیں آیا کہ بے سرو سامان مسلمانوں کی یہ فتح، فتح مکہ کا پیش خیمہ ہے۔اُحد مسلمانوں کو معجزانہ فتح ہوئی اور دراصل مکہ کا دوسرا دروازہ ہو گیا لیکن عرب کے لوگوں کو یہ نشان نظر نہیں آیا۔جنگ احزاب میں فتح نصیب ہوئی اور گویا مکہ کا تیسرا دروازہ فتح ہو گیا مگر باوجود اس کے مکہ والوں کو یہ نظر نہیں آیا اور نہ ہی عرب والوں کو کہ مکہ فتح ہو گیا۔پھر خیبر کی جنگ میں مسلمانوں نے یہود پر غلبہ حاصل کیا اور ان ریشہ دوانیوں کا خاتمہ کر دیا جو یہود عرب میں کرتے تھے اور اس طرح گویا مکہ کا چوتھا دروازہ فتح ہو گیا لیکن یہ فتح عربوں کو نظر نہیں آئی۔اسی طرح ہر وہ جنگ جو مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں لڑنی پڑی اس کے نتیجہ میں در حقیقت مکہ کا ہی ایک حصہ فتح ہوتا تھا لیکن کسی ایک یا دو یا چار لوگوں کو ہی یہ نشان نظر آیا تو آیا ورنہ عرب پھر بھی فخر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مکہ ہمارے قبضہ میں ہے۔لیکن جب اس کے نتیجہ میں سب سے گھٹیا جنگ مسلمانوں نے کی جو فتح مکہ