خطبات محمود (جلد 22) — Page 11
$1941 11 خطبات محمود دنیوی لوگ اس ذریعہ کو بظاہر بے اثر قرار دیتے ہیں لیکن ان کے یہ دعوے اُسی وقت تک ہوتے ہیں جب تک کہ وہ پیشگوئیاں اس جماعت کے حق میں پوری نہیں جاتیں جس کو اللہ تعالیٰ اس کام کے لئے کھڑا کرتا ہے۔جب تک وہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوتیں اور کمال و تمام کو نہیں پہنچ جاتیں اس وقت تک تو ماننے والوں میں سے بھی بعض جو کمزور دل اور کمزور ایمان کے ہوتے ہیں شبہ میں مبتلا رہتے ہیں۔گو کامل یقین اور کامل ایمان رکھنے والے مومن ان پیشگوئیوں کے پورا ہو جانے وجہ سے جو درمیانی عرصہ میں پوری ہوتی ہیں اپنے ایمان اور یقین میں بڑھتے جاتے ہیں۔لیکن کمزور دل لوگ جن کی خلقی حالت ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ جلد شبہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔یا اعصابی کمزوری والے انسان جو کبھی بھی یقین کے مقام پر کھڑے نہیں ہو سکتے یا ایسے لوگ جو منہ سے تو ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کے دل میں ایمان نہیں ہوتا۔وہ تو اس زمانہ میں بھی جب خدا پے در پے نشانات نازل کرتا ہے کمزوری دکھاتے، شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور قسم قسم کی باتیں بناتے ہیں اور جو غیر ہیں وہ بھی درمیانی نشانات سے کم ہی فائدہ اٹھاتے ہیں إِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔کوئی کوئی آدمی جس کے دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت ہوتی ہے اِکا دُکا۔ایک یہاں ایک وہاں اور کوئی اور زیادہ پرے صداقت کو صحیح تسلیم کرتا ہو مان لیتا ہے۔لیکن جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے آخری نتیجہ نکلتا ہے اور نشانات اپنا مجموعی اثر دکھاتے ہیں یکدم غیب کی سے ایسا دروازہ کھل جاتا ہے کہ ایک دن یا چند ایام میں ہی دنیا کی کایا پلٹ جاتی ہے اور وہ جو مقہور اور مغلوب ہوتے ہیں دنیا پر غالب آ جاتے ہیں۔اس وقت وہ لوگ جو بار بار یہ سنتے چلے آتے ہیں کہ اس جماعت کی ترقی الہی نشانات سے ہو رہی ہے ان کے قلوب بھی صاف ہو جاتے ہیں اور وہ جوق در جوق اس سلسلہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔تب اس زمانہ کے لوگوں کے لئے صداقت کی سب سے قوی تر دلیل یہی ہوتی ہے کہ مخالف حالات کے باوجود یہ جماعت دنیا پر غالب آ گئی۔اس کی مثال میں فتح مکہ کو دیکھ لو۔مکہ ایک دن میں فتح نہیں ہوا۔مکہ کی فتح اس جنگ کا طرف