خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 87

$1940 87 خطبات محمود اس کے علاوہ اگر کوئی خاص ضرورت پیش آئی تو چندہ لے لیا ورنہ نہیں۔کارکنوں کے گزاروں اور دفتری اخراجات کے لئے مستقل آمد سے کام ہو تا رہے۔میرا اندازہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اس سے پچاس ساٹھ ہزار روپیہ سالانہ کی آمد ہوتی رہے گی اور اس طرح دفتری اخراجات اور کارکنوں کے گزارہ کے لئے جماعت سے چندہ لینے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔اس زمین کی اقساط میں سال میں ادا ہوں گی لیکن مجھے امید ہے کہ اگر حالات ایسے ہو جائیں کہ زمینداروں کی پیدا کردہ اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں تو اس تحریک کے عرصہ کے اندر اندر ہی ادا ہو سکتی ہیں۔بہر حال یہ ایسی مستقل بنیادیں ہیں کہ جن سے تبلیغ کا دروازہ بہت وسیع ہو سکتا ہے اور یہ ایسا مستقل فنڈ ہے کہ جو تبلیغ کے کام کو بڑھانے کے سامان اپنے اندر رکھتا ہے مگر ہم اس کام کو آرام اور فراغت کے ساتھ اُس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک کہ جماعت کے دوست اپنے وعدوں کو پورا نہ کریں اور وعدے پیش کرنے میں دلیری اور جرآت سے کام نہ لیں۔میں نے مجلس شوریٰ میں یہ بات بیان کی تھی کہ اس سال کے وعدے گزشتہ سال سے کچھ کم ہیں گو وہ 1938ء کی نسبت تو زیادہ ہیں مگر 1939ء کی نسبت سے کم ہیں۔بے شک ابھی بیرون ہند کی جماعتوں کے سب وعدے نہیں آئے جو کئی ہزار کے ہوتے ہیں مگر ان ہزاروں کو شامل کر کے بھی تین چار ہزار کی کمی رہ جائے گی اور یہ بہت نقص کی بات ہے۔مومنوں کی جماعت کا ہر قدم آگے ہونا چاہیئے پیچھے نہیں۔مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ مجلس شوری کے موقع پر میرے اس بیان کے بعد بعض دوست توجہ کر رہے ہیں۔چنانچہ عزیزم مرزا مظفر احمد صاحب نے جو میرے بھتیجے اور داماد بھی ہیں خط لکھا ہے کہ آپ جب یہ ذکر کر رہے تھے کہ اس سال وعدوں میں کچھ کمی ہے تو میرے دل پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے اُسی وقت فیصلہ کیا کہ میں اپنے وعدہ میں اضافہ کروں گا چنانچہ میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ اپنا چندہ دو سو کی جگہ اڑھائی سو کر تا ہوں۔اس کے علاوہ وعدوں کی ادائیگی میں بھی کسی قدر ستی پائی جاتی ہے۔ہر سال کچھ نہ کچھ وعدے ادا ہونے سے رہ جاتے ہیں۔حالانکہ یہ چندہ طوعی ہے وعدہ کے بعد اس کے ادا نہ ہونے