خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 86

$1940 86 خطبات محمود وقت کی ضرورت ہے۔عام لوگ گھبراتے ہیں کہ کام نہیں ہو رہا۔بعض لوگ جلدی بازی کے عادی ہوتے ہیں مگر انہیں یا د رکھنا چاہیئے کہ بعض کاموں میں جلد بازی انہیں رحمانی کی بجائے شیطانی بنا دیا کرتی ہے۔اسی جنگ میں دیکھ لو انگلستان دو سال سے والنٹیر تیار کر رہا تھا مگر اب تک وہ دو دو چار چار ہزار کر کے ہی میدان میں بھیجے جاتے ہیں اور اچھے افسروں کی ٹریننگ کے لئے تین تین چار چار بلکہ پانچ پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔پس اگر ہم بھی تین چار یا پانچ سال لگا کر ایسے علماء کی ایک جماعت تیار کر سکیں جو تین چار یا پانچ سال میں عربی، دینی اور انگریزی علوم سے واقفیت حاصل کر سکیں، دین کے ماہر ہوں اور دین کی تفاصیل سے آگاہ ہوں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ بیس پچیس سال کے لئے جماعت کی ضرورت پوری ہو جائے گی اور مبلغین کی ٹرینگ کے لئے ایک ایسی لائن تیار ہو سکے گی کہ جس پر چل کر نئے مبلغ تیار کرنے آسان ہو جائیں گے۔دوسرا حصہ تحریک جدید کے چندوں کا جیسا کہ میں کئی بار بیان کر چکا ہوں مستقل جائداد پیدا کرنے پر خرچ کیا گیا ہے۔ایسی زمینیں خریدی گئی ہیں جن کی قیمت قسط وار ادا کی جا رہی ہے اور قسط ہمیں قریباً ستر ہزار روپیہ سالانہ دینی پڑتی ہے۔ان جائدادوں کے پیدا کرنے کی غرض یہ ہے کہ تحریک کے عارضی چندہ کو ہم مستقل نہیں کر سکتے اور نہ یہ مستقل طور پر ادا کیا جاسکتا ہے۔بے شک مستقل کر دینے کی صورت میں بھی بعض مخلصین اسے ادا کرتے رہیں گے لیکن ساری جماعت نہیں کر سکتی۔اگر ساری جماعت انہیں ادا کرے تو صدر انجمن احمدیہ کے چندوں پر برا اثر پڑے گا۔گو محاسب صاحب اور ناظر صاحب بیت المال تو اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انجمن کے چندوں پر اثر پڑ رہا ہے مگر میں ان کی اس رائے سے متفق نہیں ہوں کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ انجمن کا چندہ اسی طرح بڑھ رہا ہے جس طرح کہ پہلے بڑھتا تھا۔لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ان عارضی چندوں کو مستقل کر دیا گیا تو اس کے نتیجہ میں ایک لمبے عرصہ کے بعد انجمن کے چندوں میں ترقی رُک جائے گی اور ادھر یہ کام ایسا ہے کہ اسے ہم چھوڑ بھی نہیں سکتے۔تبلیغ کو کسی وقت بھی بند نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ کوئی ایسا انتظام کر دیا جائے کہ جس سے معمولی اخراجات پورے ہو سکیں اور بجٹ پورا ہو تار ہے۔