خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 88

$1940 88 خطبات محمود کے کوئی معنی ہی نہیں سوائے اس کے کہ کسی شخص کے حالات ایسے بدل جائیں کہ وہ ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ایسا شخص تو معذور ہے اور نادہند نہیں۔ایسا شخص اگر اطلاع دے دے تو اس کا نام رجسٹر سے کاٹ دیا جائے گا۔پھر میں نے یہ بھی بارہا کہا ہے کہ جو شخص نہ دے سکتا ہو وہ معافی لے لے تا نادہندگی کے گناہ سے بچ جائے مگر باوجود اس کے جو نہ تو معافی لیتا ہے اور نہ ادا کرتا ہے وہ خواہ مخواہ گنہگار بنتا ہے۔دفتر تحریک جدید والے اب ہر ایک کے نام رجسٹری خطوط بھیج رہے ہیں گو میرے خطبہ کی تعمیل انہوں نے بہت دیر سے کی مگر اب یہ خطوط بھیجے جارہے ہیں تاہر ایک پر حجت قائم ہو جائے اور بعد میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے اطلاع نہ تھی۔اب بھی ان لوگوں کے لئے موقع ہے کہ جو ادا نہ کر سکتے ہوں وہ معافی لے لیں اس طرح ان کا نام رجسٹر سے کاٹ دیا جائے گا۔لیکن جو نہ تو معافی لے اور نہ ادا کرے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ وہ خدا تعالیٰ اور سلسلہ سے کھیل اور تمسخر کرنا چاہتا ہے۔وہ جھوٹی بڑائی کا خواہشمند ہے، اس کے اندر غرور اور تکبر پایا جاتا ہے اور وہ محض جھوٹی عزت کے لئے اپنا نام لکھوا دیتا ہے۔ورنہ شروع دن سے ہی اس کا ارادہ ادا کرنے کا نہ تھا۔ان کے سوا بھی بعض ایسے لوگ ہیں جو ادائیگی میں سستی کرتے ہیں۔وہ خیال کر لیتے ہیں کہ آخری دن ادا کر دیں گے حالانکہ مومن کو چاہئے کہ پہلے ہی دن ادا کرے یا پھر ہر ماہ کرتا جائے۔کیا پتہ ہے کہ وہ آخری دن تک زندہ بھی رہے یا نہ رہے۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں اگست میں ادا کر دوں گا اسے کیا علم کہ وہ اگست تک زندہ بھی رہے گا یا نہیں؟ لیکن جس نے نومبر میں وعدہ لکھوایا اور پھر کچھ دسمبر میں ادا کیا، کچھ جنوری میں، کچھ فروری میں اور بعد میں فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ ادا کرنے والوں میں شمار ہو گانا ہندوں میں نہیں کیونکہ جب تک وہ زندہ رہابر ابر ادا کر تار ہا لیکن جو شخص ایک بھی قسط ادا نہیں کرتا وہ اگر فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور دریافت کرے گا کہ تم نے ادا ئیگی کے لئے کیا تیاری کی تھی؟ پس دوست تحریک جدید کے چندوں کی ادائیگی میں عجلت سے کام لیں اور جو یکمشت ادا نہیں کر سکتے وہ آہستہ آہستہ ادا کرتے جائیں۔سارے ہی اگر آخری دن ادا کرنے پر رہیں تو ہم زمین کی قسط کہاں سے ادا کر سکتے ہیں ؟ یہ قسط مئی میں اد کرنی پڑتی ہے اور