خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 6

1940 6 خطبات محمود سة جائے اور ان میں سے کوئی غائب نہ ہو تو بھی اس حدیث کا دوسروں تک پہنچانا صرف عارضی طور پر ختم ہو گا کیونکہ جب نئے بچے پیدا ہوں گے تو ان کے متعلق پھر اس بات کی ضرورت پیش آئے گی کہ انہیں اس حدیث کے مفہوم سے آگاہ کیا جائے۔فرض کرو رُوئے زمین کے تمام مسلمان ہیں کروڑ ہیں یا چالیس کروڑ ہیں یا ایک ارب ہیں اور اتفاقاوہ ایک مجلس میں جمع ہو جاتے ہیں اور سب کو یہ حدیث پہنچا دی جاتی ہے تو بھی اس حدیث کو آگے پہنچانے کا سلسلہ عارضی طور پر ہی بند ہو گا دائمی طور پر نہیں کیونکہ دس پندرہ سال کے بعد ان کے جو بچے پیدا ہو کر بڑے ہو چکے ہوں گے ان کو اس حدیث کا علم نہیں ہو گا اور اس وقت رسول کریم صلی نیم کا یہ حکم پھر تازہ ہو جائے گا کہ فَلْيُبَلّغ الشَّاهِدُ الْغَائِب۔پس یہ ایک ایسا گر رسول کریم صلی الایم نے ایجاد کیا ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے کبھی مسلمان اس حدیث سے ناواقف نہیں رہ سکتے اور کوئی مسلمان ایسا نہیں ہو سکتا جس کے کان میں کم سے کم سال میں تین چار بار یہ حدیث نہ پڑے۔اگر اس حدیث کا محض پڑھ لینا یا اس کا ایک دو دفعہ سن لینا کافی ہو تا تو انسان بخاری میں اس حدیث کو پڑھ سکتا تھا اور جو دینی مدارس کے اساتذہ ہیں وہ اپنے شاگردوں کو یہ حدیث پڑھاتے ہی ہیں بلکہ شائد دس دس دفعہ ان کے پڑھانے میں یہ حدیث آجاتی ہو گی لیکن میں کہتا ہوں کہ پڑھنے اور دوسروں کو پہنچانے میں بہت بڑا فرق ہے۔اگر رسول کریم صلی ا ظلم یہ نہ فرماتے کہ فَلْيُبَلّغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ تو پڑھانے والے کے دل پر وہ اثر نہ ہو سکتا جو اب ہوتا ہے۔اس صورت میں پڑھانے والا اسے محض ایک حدیث سمجھتا مگر اب جب وہ رسول کریم صلی للی نی کے اس ارشاد کو ساتھ ہی دیکھتا ہے تو وہ اسے صرف حدیث نہیں سمجھتابلکہ وہ اس حدیث کو ایک ذمہ داری اور امانت سمجھتا ہے اور وہ اس حدیث کو پڑھنا یا پڑھانا کافی خیال نہیں کرتا بلکہ اس امانت کی ادائیگی کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔پس اس حدیث نے پڑھانے والے کے ذہن میں بھی بیداری پیدا کر دی اور پڑھنے والے کے ذہن میں بھی بیداری پیدا کر دی۔پس یہ ایک عظیم الشان نکتہ ہے جسے رسول کریم صلی علیم نے ہمارے فائدہ کے لئے بتایا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس طرف توجہ دلا دی کہ رسول کریم صلی ایم کا ان الفاظ سے یہ منشاء نہیں تھا۔اُس وقت آپ کی مجلس میں جو لوگ موجود تھے وہ ان لوگوں تک اسے پہنچا دیں جو