خطبات محمود (جلد 21) — Page 7
1940 7 خطبات محمود اُس وقت موجود نہیں تھے کیونکہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ”اس مجلس کا شاہد“ بلکہ آپ نے شاہد کا لفظ بغیر اضافت کے فرمایا۔اگر آپ یہ فرماتے کہ فَلْيُبَلِّغْ شَاهِدُ مَجْلِسِنَا هَذَا کم اس مجلس میں جو لوگ موجود ہیں وہ دوسروں تک میری یہ بات پہنچا دیں تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ اس حدیث کا دوسروں تک پہنچانا صرف اُنہی کا فرض تھا ہمارا فرض نہیں۔مگر آپ نے صرف فَلْيُ الشَّاهِدُ الْغَائِب فرمایا اور غائب کے لئے بھی آپ نے یہ نہیں فرمایا لَه الْغَائِبُ عَنْ مَجْلِسِنَا هَذَا بلکہ الْغَائِبَ کا لفظ استعمال کیا۔گو یار سول کریم صلی لل نظم نے شاہد کا لفظ بھی بغیر اضافت اور قید کے استعمال کیا اور غائب کا لفظ بھی بغیر اضافت اور قید کے استعمال کیا۔پس جب آپ نے شاہد کا لفظ فرمایا تو اس سے مراد وہ مسلمان نہیں تھے جو اُس مجلس میں موجود تھے اور جب آپ نے غائب کا لفظ استعمال فرمایا تو اس سے مراد بھی وہ مسلمان نہیں تھے جو اُس وقت مجلس میں موجود نہیں تھے بلکہ شاھد سے مراد وہ شخص ہے جس کے سامنے یہ حدیث بیان کی جائے اور غائب سے مراد ہر وہ شخص ہے جس کے سامنے اس وقت حدیث بیان نہ ہوئی ہو۔چاہے اس حدیث کا اسے علم ہی کیوں نہ ہو۔پس جلسہ سالانہ پر ایک تو میں نے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ اس حدیث کے مضمون کو پھیلانے کی طرف توجہ کریں اور رسول کریم صلی ا لم کی اس وصیت کو دہراتے رہیں یہاں تک کہ یہ امر ان کی عادت میں داخل ہو جائے اور ان کے دل میں اتنا راسخ ہو جائے کہ ان کا ہاتھ کسی مسلمان کے خلاف نہ اٹھے ، ان کی زبان کسی مسلمان کے خلاف نہ کھلے اور ان کی آنکھ کسی مسلمان کے مال کی طرف نہ اٹھے۔گویا دوسرے کی جان، مال اور آبرو پر حملے کا خیال بھی ان کے دل میں نہ آئے۔اور ان کی دیانت وامانت ایسے اعلیٰ پایہ کی ہو کہ کسی مسلمان کے مال کی طرف ہاتھ اٹھنا تو الگ رہا ان کی نگاہ بھی نہ اٹھے اور دنیا اس یقین پر قائم ہو جائے کہ ایک مسلمان کے لئے کسی دوسرے مسلمان کا مال اٹھانا یا اس کی عزت اور جان پر حملہ کرنا بالکل ناممکن ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر مسلموں کے مال، جان اور آبرو پر حملہ کرنا جائز ہے۔وہ بھی ویسا ہی ناجائز ہے جیسے کسی مسلمان کے مال، جان اور عزت پر حملہ کرنا۔البتہ اس حدیث میں زیادہ زور اسی بات پر دیا گیا ہے کہ کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی