خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 5

1940 5 خطبات محمود ہو۔اور غائب کے معنی جاہل کے نہیں بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس مجلس میں موجود نہ ہوں جس میں یہ حدیث بیان کی گئی ہو۔مثلاً اس وقت خطبہ جمعہ میں جو لوگ شامل ہیں وہ سب شاہد ہیں اور جو احمدی یہاں نہیں بیٹھا چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو ، چاہے وہ اس حدیث کو سند کے ذریعہ رسول کریم صلی این نام تک روایت کرتا ہو وہ غائب ہے کیونکہ وہ اس ہم مجلس میں نہیں۔پس اس حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ ایک تعلیم ہے جو ناوا قفوں تک پہنچاؤ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ یہ ایک تعلیم ہے جو واقفوں اور ناواقفوں تک پہنچاؤ اور وہ اگلے واقفوں یاناواقفوں تک پہنچائیں اور وہ اس سے اگلے واقفوں یا ناواقفوں تک پہنچائیں اور پھر پہنچاتے چلے جائیں۔بظاہر یہ ایک چھوٹا سا تغیر ہے کہ عالم کی جگہ شاہد اور جاہل کی جگہ غائب کا لفظ رکھ دیا گیا ہے مگر یہ چھوٹا سا تغیر ایک حکیم ہستی کا تغیر ہے جو یہ مجھتی تھی کہ ان دو چھوٹے سے تغیرات کے ساتھ میں اپنی امت میں اس تعلیم کے متواتر پھیلائے جانے کی بنیاد قائم کر رہا ہوں۔پس اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ عالموں کو چاہیے کہ ناواقفوں تک اسے پہنچادیں بلکہ اس حدیث کا یہ مفہوم ہے کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر اس دوسرے مسلمان تک جو اس مجلس میں شامل نہیں یہ حدیث پہنچا دے اور پھر آگے اس کا فرض ہے کہ وہ اسی طرح اور لوگوں تک اس حدیث کو پہنچاتا چلا جائے اور جبکہ اس حدیث میں یہ شرط عائد کر دی گئی ہے کہ جس مجلس میں یہ حدیث بیان کی جائے اس میں بیٹھنے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان لوگوں تک اس حدیث کو پہنچائیں جو اس مجلس میں موجود نہ ہوں تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ قیامت تک یہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچائی جائے گی کیونکہ کوئی ایسی مجلس نہیں ہو سکتی جس میں دنیا کے تمام مسلمان بیٹھے ہوں اور سب کے سامنے ایک وقت میں یہ حدیث بیان کی جاسکے۔لازماً ہر مجلس میں کچھ مسلمان ہوں گے اور کچھ نہیں ہوں گے۔پس اس شرط کے ماتحت ہمیشہ ان لوگوں کا جو کسی مجلس میں اس حدیث کو سنیں گے یہ فرض رہے گا کہ وہ دوسروں تک اسے پہنچائیں اور اس طرح قیامت تک سلسلہ چلتا چلا جائے گا اور بفرض محال کوئی ایسی مجلس قائم بھی ہو سکے جس میں روئے زمین کے تمام مسلمان اکٹھے ہو جائیں اور سب کے سامنے ایک وقت میں اس حدیث کو بیان کر دیا