خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 471

خطبات محمود 470 $1940 الاحمدیہ والے ورزش کراتے ہیں۔یہ شکایت ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص کو جو دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا کسی نے کہا تھا کہ اٹھ کر سایہ میں ہو جاؤ تو اس نے کہا تھا کہ کیا دو گے۔بچوں کے ورزش کرنے سے خدام الاحمدیہ والوں کو کیا ملتا ہے۔اس سے تمہارا ہی فائدہ ہے کہ تمہارے بچوں کی صحت درست ہو جائے گی ، اخلاق درست ہوں گے اور چستی و چالا کی پیدا ہو گی۔اگر وہ تندرست و توانا ہو کر زیادہ کمائیں گے تو کیا خدام الاحمدیہ والوں کو کچھ دے دیں گے۔ہمارے ملک میں بچوں کو محنت کا عادی نہیں بنایا جاتا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر بھی نکے ثابت ہوتے ہیں۔یورپ میں بچوں کو محنت کا عادی بنایا جاتا ہے جس سے بڑے ہو کر بھی وہ کام کے قابل ہوتے ہیں۔پس دوست اس بات کا خیال رکھیں کہ جہاں بچوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ کیا جائے کہ ان کی صحت بگڑ جائے وہاں ان کی تربیت کا بھی خیال رکھا جائے۔انہیں محنت و مشقت کا عادی بنایا جائے۔مشکلات کے برداشت کرنے کی مشق کرائی جائے اور انہیں اپنے اوقات کو ضائع کرنے سے روکا جائے کیونکہ جن نوجوانوں میں یہ عیوب ہوں وہ ملک، قوم بلکہ ساری دنیا کے لئے مصیبت کا موجب ہوتے ہیں اور جو شخص تمہارے بچہ کی ایسی تربیت کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے وہ محنت اور مشقت کا عادی ہو وہ تمہارا دشمن نہیں بلکہ دلی دوست ہے اور اگر تم اسے چھوڑتے ہو تو پھر کوئی دوست تمہیں نہیں ملے گا۔“ 1 سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا۔(آل عمران: 138) (الفضل 6 جولائی 1960ء) 2 مساحت: زمین کی پیمائش۔3 تذکرہ صفحہ 10 ایڈیشن چہارم