خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 470

خطبات محمود 469 $1940 سب چیزوں کا استعمال ہونا چاہیے۔یہ نہیں کہ روز ایک ہی چیز کھائی جائے۔جو شخص کہے کہ میں روز ہی روغن جوش استعمال کروں گاوہ اسراف کے علاوہ بیمار بھی ہو جائے گا۔ایک دوست کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ ان کی صحت بہت خراب رہتی تھی۔کئی علاج کئے مگر آرام نہ ہوا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ان دنوں ابھی پٹیالہ میں تھے یہاں نہ آئے تھے وہ ان کے پاس گئے۔وہاں سے انہوں نے لکھا کہ اب مجھے افاقہ ہے اور یقین ہو گیا ہے کہ اچھا ہو جاؤں گا۔ڈاکٹر صاحب نے میری بیماری سمجھ لی ہے۔اصل بات یہ تھی کہ ان کو متواتر کثرت کے ساتھ مرغن کھانے کھانے سے تکلیف تھی۔تو اس قسم کی غذائیں صحت کو برباد کر دیتی ہیں۔اگر کوئی شخص کہے کہ میں روزانہ گھی پیا کروں گا تا موٹا ہو جاؤں تو اس کا دماغ مارا جائے گا۔پس ایک کھانے میں بھی سادگی ضروری ہے۔سادگی قوم کو مستقل طور پر قربانی کرنے کے لئے تیار کر دیتی ہے۔اس سادگی میں لباس کی سادگی بھی شامل ہے، زیور کی بھی۔میرے سامنے کئی مثالیں ہیں کہ بعض دوست پہلے سے بڑھ کر اب قربانیاں کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔پہلے ان کے اخراجات زیادہ تھے مگر سادگی اختیار کرنے کی وجہ سے اخراجات کم ہو گئے اور وہ زیادہ قربانی کرنے کے قابل ہو گئے۔پس سادہ زندگی اختیار کرنے سے دین کے لئے زیادہ قربانی کی توفیق حاصل ہو سکتی ہے۔اور اس طرح سے عور تیں اور بچے بھی ثواب میں شریک ہو سکتے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ غذا میں کمی کر کے بچوں کی صحت خراب کر دی جائے۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔قومی فرائض سے ایک اہم ترین فرض بچوں کی صحیح طریق پر پرورش کرنا بھی ہے کیونکہ قوم کا آئندہ بوجھ ان کے کندھوں پر پڑنے والا ہوتا ہے۔اگر وہ کمزور ہوں تو اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکیں گے۔اس لئے ان کو خوراک پوری دینی ضروری ہے۔ہاں اس میں سادگی کا خیال رکھنا چاہیے اور فضول خرچی کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے۔ان کو دینی ارکان کا پابند بنایا جائے۔بلوغت سے قبل کبھی کبھی روزہ بھی رکھوانا چاہیے اس سے ان کی صحت خراب نہیں ہوتی بلکہ یہ صحت کے لئے فائدہ بخش چیز ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ بچوں کو نماز کے لئے نہیں جگاتے۔وہ سمجھتے ہیں ابھی نیانا (بچہ) ہے۔یہ درست نہیں ان کو نمازوں کی باقاعد گی کا عادی بنانا چاہیئے۔پھر ورزش کی عادت بھی ڈالنی چاہیئے۔کئی لوگ شکایت کرتے ہیں کہ خدام