خطبات محمود (جلد 21) — Page 41
$1940 41 خطبات محمود اُس وقت اگر کوئی مانگے تو وہ ہیں، پچاس، سو بلکہ ہزار بھی دے دیتا ہے۔تو دینے کے لئے صرف روپیہ یا چیز کی موجودگی کا ہی سوال نہیں بلکہ حالات کا بھی دخل ہوتا ہے۔ایک وقت دینے والا خوشی میں بیٹھا ہوتا ہے تو مانگنے والے کو مل جاتا ہے۔لیکن دوسرے وقت وہ ناراض ہوتا ہے اور اس وقت کچھ بھی نہیں مل سکتا۔اسی طرح بعض دنوں میں اللہ تعالیٰ زیادہ دینے کے لئے تیار ہوتا ہے ان دنوں میں سے ایک یہ دن ہے۔اس دن کے لئے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی ال لیلی کے ذریعہ جو دعا سکھلائی اس کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آج خدا تعالیٰ اپنا جلوہ دکھانے کے لئے تیار ہے۔الفاظ ہی ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ بندے کو بلا رہا ہے اور بندہ آواز دیتا ہوا اس کی طرف جا رہا ہے۔اس لئے یہ موقع مانگنے کے لئے نہایت موزوں ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں ہم کس طرح اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟ لیکن میں ان کو بتاتا ہوں کہ رسول کریم صلیا کی ایک مرتبہ جہاد کے لئے تشریف لے گئے۔کچھ لوگ آپ کے ساتھ تھے آپ نے ان سے فرمایا کہ تمہارے کئی بھائی ایسے ہیں جو مدینہ میں بیٹھے ہیں مگر کوئی ثواب ایسا نہیں جو تم کو ملتا اور وہ اس سے محروم رہتے ہوں۔تم جو نیک کام بھی کرتے ہو اس کا ثواب ان کو بھی پہنچتا ہے۔صحابہ نے کہا یار سول اللہ ! یہ کیا بات ہے۔تکالیف ہم اٹھائیں اور وہ گھروں میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہمارے برابر ثواب حاصل کر لیں ؟ آپ نے فرمایا کہ ان کو ثواب کا مستحق وہ ولولہ اور شوق بناتا ہے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے اور اگر مجبوریاں نہ ہو تیں تو وہ ضرور یہاں ہوتے۔2 پس ہر وہ شخص جس کے دل میں جوش اور خواہش ہے کہ حج کو جائے اگر آج یہاں بیٹھا ہے تو رسول کریم صلیالی نیلم کے فرمائے ہوئے اس اصول کے مطابق وہ خدا تعالیٰ کے حضور ان لوگوں میں ہی شامل سمجھا جائے گا جو آج میدان عرفات میں جمع ہیں خواہ وہ دنیا کے کسی کونہ میں ہوں۔خدا تعالیٰ کی نظر انسان کے دل پر ہوتی ہے۔انسان عمل میں منافقت کر سکتا ہے مگر دلی خیالات میں نہیں۔تم چاہو تو ایک منٹ میں کہہ سکتے ہو کہ میں نے اپنی ساری جائداد فلاں شخص کو دے دی مگر اس سے ہزارواں حصہ نفرت یا محبت کسی کو نہیں دے سکتے۔محبت یا نفرت پیدا کرنے کے لئے خاص سامانوں اور محرکات کی ضرورت ہوتی