خطبات محمود (جلد 21) — Page 40
$1940 40 خطبات محمود چلے جارہے ہیں اور لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَكَ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ کہتے ہوئے جا رہے ہیں۔کیا ہی عجیب نظارہ ہے ! یہ الفاظ رسول کریم صلی ال ولیم نے اس موقع کے لئے ایسے رکھے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ سامنے ہے اور اپنے بندوں کو بلا رہا ہے اور اس کے بندے اے میرے رب ! میں حاضر ہوں کہتے ہوئے اس کی طرف چلے جارہے ہیں اور کہتے ہیں کہ تیرا کوئی شریک نہیں صرف تو ہی اس امر کا مستحق ہے کہ بندوں کو آواز دے اور تیرے بلانے پر ہم تیرے حضور حاضر ہیں۔یہ الفاظ نہایت سادہ ہیں مگر نہایت شاندار مفہوم ادا کر رہے ہیں اور یہ الفاظ منہ سے کہتے ہوئے لوگ وہاں جاتے ہیں جہاں خدا تعالیٰ نے اپنا جلوہ دکھانے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔مگر جو لوگ وہاں جاتے ہیں کیا وہ سب اس جلوہ کو دیکھتے ہیں ؟ کیا ان سب حاجیوں کو جو وہاں پہنچتے ہیں یہ جلوہ دکھائی دیتا ہے ؟ بالکل نہیں۔کیونکہ وہ اخلاص کے ساتھ نہیں جاتے۔اگر اخلاص اور تقویٰ سے وہاں جائیں تو ان میں سے کوئی بھی خالی نہ کوئے۔حقیقت یہ ہے کہ سینکڑوں میں سے شاید ہی کوئی یہ جھلک دیکھ کر کوٹتا ہے اور باقی خالی ہاتھ جاتے ہیں اور خالی ہاتھ آ جاتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بھری ہوئی جیبوں کے ساتھ جاتے اور خالی ہاتھ واپس آ جاتے ہیں۔جب وہ حج کے لئے جاتے ہیں تو ان کی مالی حالت اچھی ہوتی ہے مگر جب وہ حج پر روپیہ خرچ کرنے کے بعد آتے ہیں تو ان کے پاس نہ دین ہو تا ہے نہ دنیا۔دنیا کا روپیہ وہ خرچ کر آتے ہیں اور دین ملتا نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حج کو جانے والوں میں سے بہت سے خالی ہاتھ واپس آتے ہیں۔گو بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو خالی ہاتھ واپس نہیں آتے۔نیک زمانہ میں تو ہزاروں جاتے اور ہزاروں ہی بھرے ہوئے دامن کے ساتھ واپس آتے ہیں۔مگر بد زمانہ میں ہزاروں جاتے اور ان میں سے بہت تھوڑے خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو کر آتے ہیں۔بہر حال آج کا دن وہ دن ہے جب خدا تعالیٰ خود دینے پر آتا ہے اور اس سے بہتر موقع لینے کا اور کوئی نہیں ہوتا جب دینے والا خود دینے پر آئے۔بعض اوقات ایک شخص کے پاس کروڑوں روپیہ ہوتا ہے اور کوئی اس سے ایک پیسہ مانگتا ہے تو وہ دینے کے لئے تیار نہیں ہو تا۔مگر کوئی وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس نے لاکھوں کمائے ہوتے ہیں اور کروڑوں کی امید ہوتی ہے۔