خطبات محمود (جلد 21) — Page 42
خطبات محمود ނ 42 * 1940 ہے جس کے بعد وہ آپ ہی آپ پیدا ہوتی ہے۔وہ تمہارے اختیار کی بات نہیں۔اپنی لاکھوں کی جائداد یا مال کا دے دینا تمہارے اختیار میں ہے مگر محبت یا نفرت تمہارے اختیار میں نہیں۔تم دل کے ساتھ منافقت نہیں کر سکتے اعمال میں کر سکتے ہو۔ممکن ہے اس سے کوئی شخص یہ سمجھ لے کہ پھر عمل تو کوئی چیز نہ ہوا مگر نہیں۔حقیقی نیت خود بخود عمل پیدا کر لیتی ہے۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ نیت کے مقابلہ میں عمل کمزور چیز ہے تو میرا مطلب اس سے عمل کی حیثیت کو گرانا نہیں بلکہ یہ ظاہر کرنا ہے کہ خالص ارادوں اور اچھی نیتوں ، عمل علیحدہ رہ نہیں سکتا۔خالص نیت ایک مقناطیس ہے اور عمل لوہا ہے۔جہاں مقناطیس ہو اگر لوہا موجود ہو تو وہ خود بخود اس کی طرف کھنچا چلا جائے گا۔اور اگر عمل کی طاقت ہے ہی نہیں تو پھر کوئی اعتراض کی بات ہی نہیں۔زکوۃ فرض ہے مگر جس کے پاس مال نہ ہو اس پر نہیں، روزہ فرض ہے مگر بیمار کے لئے نہیں، نماز ضروری فرض ہے مگر بے ہوش کے لئے نہیں۔پس اگر نیت خالص ہے اور عمل کی طاقت ہے تو عمل خود بخود کھنچے چلے جائیں گے۔لیکن اگر عمل کی طاقت ہی نہ ہو تو پھر عمل کے نہ ہونے پر کوئی اعتراض ہی نہیں۔پس ہر وہ شخص جو دل میں حج کی نیت رکھتا تھا مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے اس کی توفیق نہیں مل سکی اسے یا درکھنا چاہیئے کہ اس حدیث کے ماتحت یقینا آج اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا شمار انہی لوگوں میں ہے جو عرفات میں جمع ہیں۔خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں ہو۔اور آج لوگ جہاں بھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں گے وہ اُس برکت سے حصہ پائیں گے جو عرفات والوں کے لئے مقدر ہے۔اور رسول کریم صلی اللی نیلم کے ارشاد کے مطابق خدا تعالیٰ ان کو انہی لوگوں میں شامل کرے گا۔پس آج کے دن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ لوگ خوب دعائیں کریں۔اسلام کی ترقی کے لئے، سلسلہ کی ترقی کے لئے، سلسلہ کی ہر قسم کی مشکلات کے لئے، افراد اور جماعت کی علمی ، تمدنی، اخلاقی، تہذ یہی اور روحانی ترقی کے لئے اور افراد اور جماعت کی ہر قسم کی مشکلات کے دور ہونے کے لئے۔پھر دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ کی ترقی کے سامان پیدا کرے اور ہمارے ہاتھوں وہ مقصد پوار ہو جو وہ حج سے قائم کرنا چاہتا ہے۔یعنی