خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 356

$1940 355 خطبات محمود قبضہ میں ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اگر غیر مبائعین یہ کہتے ہیں تو بہتر ہے وہ اس کو تحریر میں لے آئیں۔پھر اللہ تعالیٰ ان کو جھوٹا کر کے دکھلا دے گا۔اسی طرح بعض منافقوں کی نسبت مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے میرے متعلق کہا کہ اس بیماری سے یہ اب نہیں اٹھیں گے۔میں نے بتایا ہے کہ بیماری اور صحت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اسی کے مصالح کے ماتحت آتی ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو کبھی بیمار نہیں ہوا اور دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو موت سے محفوظ رہ سکتا ہو۔لوگ بیمار بھی ہوتے چلے آئے ہیں اور مرتے بھی چلے آئے ہیں بلکہ دنیا میں صرف ایک ہی انسان ایسا تھا جسے زندہ سمجھا جاتا تھا مگر ہماری جماعت نے تو اس کی موت پر بھی زور ہی دیا ہے لیکن باوجود اس کے ان منافقین کو خدا نے یہ خوشی کا موقع نہ دیا اور ان کے دعوے یونہی چلے گئے۔اس کے بعد میں آج کے خطبہ میں ان روزوں کے متعلق اعلان کرنا چاہتا ہوں جو ہر سال رمضان کے علاوہ ہماری جماعت کی طرف سے رکھے جاتے ہیں۔میرے منہ سے جو بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے بھی نہیں رکھ رہا کچھ زیب تو نہیں دیتا کہ میں روزوں کی تحریک کروں مگر جماعتی نظام کے لحاظ سے ایک قوم کے لیڈر کو بعض دفعہ ایسے موقع پر بھی حکم دینا پڑتا ہے جبکہ وہ خود معذور ہوتا ہے۔پس میں اللہ تعالیٰ سے اپنی ان خطاؤں کے متلق عفو کی درخواست کرتے ہوئے جن کی وجہ سے مجھے یہ روزے چھوڑنے پڑے ہیں اعلان کرتا ہوں کہ اس دفعہ بھی اِنْشَاءَ الله تعالی رمضان کے بعد شوال کے مہینہ میں سات روزے رکھیں جائیں گے۔( یہ روزے سابق کی طرح ہر پیر اور جمعرات کو رکھے جائیں گے اور عید کے بعد پہلے پیر سے شروع ہوں گے) ان روزوں میں خصوصیت کے ساتھ جماعت کے دوستوں کو میں تاکید کرتا ہوں کہ وہ دعائیں کریں کہ دنیا کی موجودہ فضا جو جنگ کی وجہ سے بگڑی ہوئی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بد نتائج سے اسلام اور احمدیت کو محفوظ رکھے۔جو لوگ حقائق سے ناواقف ہیں وہ اس امر کو نہیں جانتے کہ حالات کیسارنگ اختیار کر چکے ہیں مگر جو حقائق سے آگاہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دنیا کے حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔بہ نسبت ان حالات کے جو سطح پر نظر آتے ہیں اور جیسا کہ میں