خطبات محمود (جلد 21) — Page 357
$1940 356 خطبات محمود نے گزشتہ سال ستمبر یا اکتوبر کے خطبہ میں بیان کیا تھا ظاہر میں نظر آنے والے اتحادوں سے بہت زیادہ اندرونی اتحاد ہیں اور پھر ان میں بھی تغیر ہوتارہتا ہے۔کبھی ایک سے اتحاد ہوتا ہے ور کبھی دوسرے سے۔اگر یہ تمام اندرونی سازشیں دنیا کے سامنے آجائیں تو لوگ حیران ہو اور جائیں اور وہ گھبر اکر کہہ اٹھیں کہ نہ معلوم اب کیا ہونے والا ہے۔۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بارہ میں بہت سی غیب کی خبریں بتائی ہوئی ہیں۔جن میں سے اکثر میں اپنے بعض دوستوں کے سامنے بیان کر چکا ہوں اور ان میں سے بعض باتیں پوری بھی ہو چکی ہیں مگر یہ موقع ان کے بیان کرنے کا نہیں۔اس وقت میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں بہت سے خطرات پیدا ہو چکے ہیں اور ان خطرات سے ہندوستان بھی محفوظ نہیں بلکہ بہت زیادہ ان کی زد میں ہے۔اس وقت قومیں گویا جوئے کی بازی لگارہی ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ اگر انہیں جان بچانے کے لئے بعض ممالک دوسروں کے حوالے کرنے پڑیں تو بھی اس میں انہیں دریغ نہیں ہونا چاہیئے۔حکومتیں آپس میں ملکوں کی تقسیم کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس ملک کا فلاں حصہ تم لے لو اور ہماری مدد کرو، فلاں حصہ وہ لے لے اور وہ ہماری مدد کرے۔گویا انسانوں کی جانیں اور ملک اس وقت ایسی ہی حیثیت رکھتے ہیں جیسی دونیوں اور چوٹیوں کی حیثیت ہوتی ہے بلکہ اس جرات اور دلیری سے تو کوئی شخص چوٹی بھی اپنے ہاتھ سے دوسرے کو نہیں دیتا جس جرات اور دلیری سے آج ملکوں، جانوں اور عزتوں کی قربانی پیش کی جارہی ہے۔ایسے موقع پر ہندوستان جس کے پاس نہ تو کافی سامانِ جنگ ہے اور نہ اس میں مقابلہ کی طاقت اور ہمت ہے۔اس کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے۔جن ممالک کے پاس فوجیں ہیں، جن کے پاس ہوائی جہاز ہیں، جن کے پاس بحری جہاز ہیں، جن کے پاس خشکی اور تری کی فوجیں ہیں، جن کے پاس تو ہیں اور بڑے بڑے ٹینک ہیں وہ بھی آج تقسیم ہو رہے ہیں۔پھر اس بنتے اور بے کس ملک کے متعلق کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دشمن کا مقابلہ کر سکے گا۔یہاں کے اکثر ہندو گائے کو پوجتے ہیں اور گائے کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اسے جو شخص بھی کان سے پکڑلے وہ اس کے ساتھ چل پڑتی ہے اور جس قیمت پر بھی وہ فروخت کرنا چاہے اس قیمت پر وہ فروخت کر دیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں شاید اسی شرک کی اللہ تعالیٰ نے ہندوستانیوں کو یہ سزا دی ہے اور