خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 286

$1940 285 خطبات محمود قرآن کریم نے بھی اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ باذن الله 10 یعنی کئی دفعہ قلیل التعداد جماعتیں کثیر تعد ادرکھنے والی اقوام پر غالب آجایا کرتی ہیں۔پس محض کثرت کچھ چیز نہیں اگر اس کثرت میں ایمان اور اخلاص نہیں۔پھر میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہم میں شامل ہی رہیں تو کسی قوم کے مقابلہ میں بھلا ہمیں کون سی غیر معمولی فوقیت حاصل ہو سکتی ہے۔ہندوستان میں سب سے کم تعداد سکھوں کی سمجھی جاتی ہے مگر وہ بھی تیس چالیس لاکھ ہیں اور ہم تو ان سکھوں کے مقابلہ میں بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔آج سے چھ سال پہلے مئی 1934ء میں سردار کھڑک سنگھ صاحب جو سکھوں کے بے تاج بادشاہ کہلایا کرتے تھے یہاں آئے اور انہوں نے بسر اواں میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا قادیان میں احمدی سکھوں پر سخت ظلم کر رہے ہیں۔اگر احمدی اس ظلم سے باز نہ آئے تو قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے گی بلکہ ان کے ایک ساتھی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ قادیان کی اینٹیں سمندر میں پھینک دی جائیں گی۔مجھے جب یہ رپورٹ پہنچی تو میں نے ایک اشتہار لکھا جس میں میں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ احمدیوں کے مظالم کی داستان بالکل غلط ہے۔اگر آپ اس علاقہ کے سکھوں کو قسم دے کر پوچھیں تو ان میں سے ننانوے فیصدی آپ کو یہ بتائیں گے کہ میں اور میرا خاندان اور میرے ساتھ تعلق رکھنے والے ہمیشہ سکھوں سے محبت کا برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ میں نے اپنے حسن سلوک کے کئی واقعات تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے پیش کئے۔اسی ضمن میں مجھے یہ رپورٹ بھی ملی کہ ایک احراری نے ان کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سکھ بڑے بے غیرت ہیں کہ احمدی ان کے گرو کو مسلمان کہہ کر ان کی ہتک کرتے ہیں اور پھر بھی ان کو جوش نہیں آتا۔میں نے ان کو سمجھایا کہ رسول کریم صلی ا یم الله سة کی بعثت کے بعد مسلمانوں کے نزدیک دنیا میں دوہی گروہ ہیں یا مسلمان یا کافر۔اس احراری کے نزدیک باوا صاحب کو مسلمان کہنے سے ان کی بہتک ہوتی ہے تو اس سے پوچھیں کہ وہ باوا صاحب کو کیا سمجھتا ہے؟ اگر تو وہ مسلمان ولی اللہ سے بڑھ کر باوا صاحب کو کوئی درجہ دے تو آپ سمجھ لیں کہ وہ آپ کا خیر خواہ ہے اور اگر اس کا یہ مطلب ہو کہ باوا صاحب چونکہ