خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 285

$1940 284 خطبات محمود قائم نہیں ہوئی اور نہ کسی نے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے اس میں جو بھی شامل ہو گا اسے وہی ثواب ہو گا جو طوعی طور پر نیک تحریکات میں شامل ہونے والوں کو ہو تا ہے۔صا سة میں ایک دفعہ پھر جماعت کے کمزور حصہ کو اس امر کی طرف توجہ دلا دیتا ہوں کہ دیکھو شتر مرغ کی طرح مت بنو جو کچھ بنو اس پر استقلال سے کاربند رہو۔اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ تم رسول کریم صلی علیم کے صحابہ کے مثیل ہو تو تمہیں اپنے اندر صحابہ کی صفات بھی پیدا کرنی چاہئیں اور صحابہ کے متعلق یہی ثابت ہے کہ ان سے دین کا کام حکما لیا جاتا تھا۔پس جب صحابہ کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ دینی احکام کے متعلق کسی قسم کی چون و چرا کریں تو تمہیں یہ اختیار کس طرح حاصل ہو سکتا ہے؟ یا تو یہ کہو کہ حضرت مرزا صاحب نبی نہیں تھے اور چونکہ وہ نبی نہیں تھے اس لئے ہم صحابی بھی نہیں اور نہ صحابہ سے ہماری مماثلت کے کوئی معنے ہیں مگر اس صورت میں تمہارا مقام قادیان میں نہیں بلکہ لاہور میں ہو گا کیونکہ وہی لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب رسول کریم صلی الم کے ظل کامل نہیں تھے جس کے لازمی معنے یہ بنتے ہیں کہ جب مرزا صاحب نبی نہیں تھے تو وہ صحابی بھی نہیں۔مگر ان میں بھی شتر مرغ والی بات ہے کہ وہ دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ مرزا صاحب رسول کریم صلی الم کے ظل کامل یعنی نبی نہیں تھے مگر کہتے اپنے آپ کو صحابی ہی ہیں۔حالانکہ اگر مرزا صاحب نبی نہیں تو وہ صحابی کس طرح ہو گئے؟ چنانچہ بار بار ہمارے مقابلہ میں غیر مبائعین نے اپنے اکابر کو صحابہ کے طور پر پیش کیا ہے۔گویا مولوی محمد علی صاحب تو صحابی بن گئے مگر مرزا صاحب ان کے نزدیک مخصوص عالم ” ہی رہے۔پس ایسے لوگوں کا مقام لاہو رہے قادیان نہیں۔ہر چیز جہاں کی ہو وہیں سجتی ہے۔ان کو بھی چاہیئے کہ قادیان سے اپنا تعلق توڑ کر لاہور سے اپنا تعلق قائم کر لیں۔پھر ہم ان کاموں کے متعلق ان سے کچھ نہیں کہیں گے۔مگر جب تک وہ ہم میں شامل رہیں گے ہم ان سے دین کی خدمت کا کام نظام کے ماتحت ضرور کرائیں گے اور اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ ایسے کمزور لوگوں کو اپنی جماعت سے خارج کر دیں۔میں نے متواتر بتایا ہے کہ کوئی جماعت کثرت تعداد سے نہیں جیتی۔