خطبات محمود (جلد 21) — Page 287
$1940 286 خطبات محمود الله بانی اسلام صلی ظلم کے منکر تھے اس لئے کافر تھے تو آپ بتائیں کہ باوا صاحب کی ہتک کرنے والا وہ ہوا یا ہم۔ہم تو انہیں مسلمان ولی اللہ کے معنوں میں کہتے ہیں اور مسلمان ولی اللہ سے اوپر مسلمانوں کے نزدیک صرف رسول اور پیغمبر ہی ہوتے ہیں۔پس ہمارا ان کو مسلمان کہنا کسی تحقیر کی وجہ سے نہیں ہو تا بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہم ان کو ویسا ہی قابل عزت سمجھتے ہیں جیسے ہمارے نزدیک مسلمان اولیاء قابل عزت ہوتے ہیں۔ہمارا انہیں مسلمان کہنے سے یہ مقصد نہیں ہو تا کہ وہ نَعُوذُ باللہ ان ادنیٰ لوگوں کی طرح تھے جو سکھوں کے گاؤں میں بستے ہیں اور گو مسلمان کہلاتے ہیں مگر اسلام سے انہیں کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہو تا کیونکہ ہم ان کی دنیوی حیثیت سے ان کو مسلمان نہیں کہتے بلکہ ان کو دینی لحاظ سے مسلمان کہتے ہیں اور دینی لحاظ سے مسلمان کے معنے ولی اللہ کے ہوا کرتے ہیں مگر عام طور پر چونکہ سکھوں کے گاؤں میں مسلمان کمیں ہوا کرتے ہیں اور دنیا داروں کی نگاہ میں تمیں حقیر خیال کئے جاتے ہیں اس لئے وہ خیال کر لیتے ہیں کہ جیسے ہمارے گاؤں کے کمیں مسلمان ہیں ویسا ہی مسلماں یہ ہمارے باوا صاحب کو سمجھتے ہیں۔حالانکہ ہم اس نقطۂ نگاہ سے انہیں مسلمان نہیں کہتے بلکہ مسلمان کا لفظ ان کے ولی اللہ ہونے کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔اگر آپ کو یہ لفظ بُرا محسوس ہوتا ہے تو آپ ہی بتائیں کہ ہم انہیں کیا کہیں ؟ ہمارے نزدیک تو مسلمانوں کے سوا جتنے لوگ ہیں سب کافر ہیں اور دو ہی اصطلاحیں مسلمانوں میں رائج ہیں۔یا کافر کی اصطلاح یا مسلمان کی اصطلاح۔اگر باوا صاحب مسلمان بمعنے ولی اللہ نہیں تو دوسرے لفظوں میں وہ نَعُوذُ بِاللهِ کافر اور خدا سے دور تھے۔اب آپ ہی سوچ لیں کہ باوا صاحب کو مسلمان کہنے سے ان کی ہتک ہوتی ہے یا ان کو مسلمان نہ کہنے سے ان کی ہتک ہوتی ہے۔احرار کا تو اس اعتراض سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ احمدی باوا صاحب کی تعریف کیوں کرتے ہیں؟ مگر سکھ ناواقفیت کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ احرار ان کی تائید کر رہے ہیں اور احمدی انہیں گالی دے رہے ہیں۔میں نے جب یہ اشتہار شائع کیا تو چونکہ وہ آدمی سمجھدار تھے اس لئے انہوں نے دوسرے ہی دن جلسہ گاہ میں سٹیج پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہا کہ تم نے مجھے سخت ذلیل کرایا ہے کیونکہ جو باتیں تم نے مجھے بتائی تھیں وہ اور تھیں اور جو باتیں اس اشتہار میں