خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 270

$1940 269 خطبات محمود رہنا ہے اس لئے بہ الفاظ دیگر اماموں کا سلسلہ بھی ہمیشہ قائم رہنا تھا اور رسول بھی ایک ہی رہنا تھا۔کیونکہ ان کی امامت اور رسالت جدا گانہ نہیں ہوئی تھی بلکہ محمد صلی ال نیم کی نبوت ورسالت میں شامل ہوئی تھی یہی وجہ ہے کہ اس دعا کے نتیجہ میں چونکہ ایک ایسار سول آنا مقدر تھا جس نے بار بار اپنے اظلال کے ذریعہ دنیا میں آنا تھا اس لئے رُسُلاً کہنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ رَسُولًا ہی کہنا چاہیے تھا۔تو آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ میں اس اعتراض کا جواب دے دیا گیا ہے کہ جہاں انہوں نے اپنی اولاد کے متعلق عام دعا کی وہاں تو ان میں بار بار رسول اور امام بھیجنے کی التجا کی مگر جہاں مکہ والوں کے متعلق خاص طور پر دعا کی تو وہاں صرف ایک رسول بھیجنے کی دعا کر دی۔اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ بے شک مکہ والوں کے متعلق انہوں نے بھی دعا کی تھی کہ ان میں ایک رسول ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ آئے مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ رسول ایسا کامل تھا کہ اس پر اس قسم کی موت آہی نہیں سکتی تھی کہ اس کی تعلیم کا اثر لوگوں کی طبائع پر سے کلیۂ جاتارہے بلکہ مقدر یہ تھا کہ جب بھی طبعی طور پر یہ اثر جاتا رہے گا خدا اسی رسول کو دوبارہ مبعوث کر دے گا اور چونکہ اس رسول نے اپنے متبع اطلال کے ذریعہ بار بار دنیا میں آنا تھا اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت سے رسول مانگنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔غرض اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب یہ دعا کی تھی کہ کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ تو اس رَسُولًا مِنْهُمْ سے مراد خاتم النبیین تھا اور چونکہ خاتم النبیین کی نبوت میں بعد میں آنے والے تمام نبیوں اور رسولوں کی نبوت شامل تھی اس لئے یہ ضرورت ہی نہ تھی کہ رَسُولاً مِنْهُمْ کی بجائے رُسُلًا مِّنْهُمْ کہا جاتا۔پس ہمیں اس آیت سے یہ نکتہ معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی لیلی کیم کی بعثت اپنی ذات میں ہی بعد میں آنے والے رسولوں اور اماموں کی خبر دیتی تھی۔آپ کے علاوہ دنیا میں اور کوئی ایسار سول نہیں جو اپنی ذات میں آنے والے انبیاء کی خبر دیتا ہو۔موسیٰ کا نفس اپنی ذات میں منفر د تھا، داؤد کا نفس اپنی ذات میں منفرد تھا۔اسی طرح اور انبیاء کے نفوس اپنی اپنی ذات میں منفر تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیاء آئے مگر وہ ان کے ظل نہیں تھے بلکہ تابع تھے۔عیسی موسیٰ کے ظل ان معنوں میں نہیں تھے جن معنوں میں