خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 269

$1940 268 خطبات محمود چنانچہ فرمایا کہ وَمِنْ ذُريَّتي کہ میری اولاد میں سے بھی ائمہ ہوتے رہیں۔تو یہ کہنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بعد کے زمانہ کی ضروریات کی طرف ذہن ہی نہیں گیا بالکل غلط ہے کیونکہ ان کی دوسری دعا نے بتا دیا کہ انہیں قیامت تک لوگوں کی ہدایت کا خیال تھا اور جب انہیں اس امر کا خیال تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ائمہ کا ہمیشہ آتے رہنا ضروری ہے تو پھر اس دعا پر انہوں نے کیوں کفایت کی کہ خدایا ان میں ایک رسول بھیج جو انہیں تیری آیات پڑھ پڑھ کر سنائے ، انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔اس سوال کا جواب ہمیں قرآن کریم سے ہی معلوم ہوتا ہے چنانچہ سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُوْلًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ 5 یہ وہی الفاظ ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے استعمال کئے تھے۔فرماتا ہے وہ خدا بڑی بلند شان والا ہے جس نے ابراہیمؑ کی دعا کو سن کر امیین میں اپنار سول مبعوث کیا۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايته وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے۔وَيُزَكِّيهِمْ اور ان کو پاک کرتا ہے يُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ اور ان کو آسمانی کتاب سمجھاتا اور شرائع کی باریک در بار یک حکمتیں بتاتا ہے۔یہ بتا کر کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول ہو گئی اور اب اس اعتراض کا ازالہ کرتا ہے جو بعض طباع میں پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا نا مکمل ہے کیونکہ جہاں اپنی اولاد کے متعلق عام دعا انہوں نے یہ کی تھی کہ ان میں متواتر رسول آتے رہیں وہاں مکہ والوں کے متعلق انہوں نے صرف یہ دعا کی کہ ان میں سے ایک رسول مبعوث ہو۔چنانچہ فرماتا ہے وَ أَخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ - ان دعاؤں میں بے شک ایک فرق ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ابراہیمی اولاد کے بعض حصوں میں ایسے نبی آنے تھے جنہوں نے اپنی ذات میں مستقل ہونا تھا مگر ابراہیمؑ نے مکہ والوں کے متعلق جو دعا کی وہ صرف ایسے رسول کے متعلق تھی جس نے ایک ہی رہنا تھا اور جس کے متعلق یہ مقدر تھا کہ آئندہ دنیا میں ہمیشہ اس کے اظلال و اتباع پیدا ہوتے رہیں۔پس چونکہ یہ خدا کا فیصلہ تھا کہ اس رسول نے بار بار منبع اطلال کے ذریعہ دنیا میں ظاہر ہوتے