خطبات محمود (جلد 21) — Page 25
$1940 25 خطبات محمود شان سے بعید ہیں لیکن محبت کی گفتگو میں اور محبت کے کلاموں میں یہ باتیں آہی جاتی ہیں۔پس میں کہتا ہوں اگر خدا کے لئے بھی رونا ممکن ہو تا، اگر خدا کے لئے بھی ہنسنا ممکن ہو تا تو جس وقت خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ میں تجھے دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کر تاہوں اور آپ فوراً کھڑے ہو گئے اور آپ نے یہ سوچاتک نہیں کہ یہ کام مجھ سے ہو گا کیونکر؟ اگر اس وقت خدا کے لئے رونا ممکن ہو تا تو میں یقینا جانتا ہوں کہ خدارو پڑتا اور اگر خدا کے لئے ہنسنا ممکن ہوتا تو وہ یقینا ہنس پڑتا۔وہ ہنستا بظاہر اس بے وقوفی کے دعوے پر جو تمام دنیا کے مقابلہ میں ایک نحیف و ناتواں وجو د نے کیا اور وہ رو پڑتا اس جذبۂ محبت پر جو اس تن تنہا روح نے خدا کے لئے ظاہر کیا۔یہی سچی دوستی تھی جو خدا کو منظور ہوئی اور اسی رنگ کی سچی دوستی ہی ہوتی ہے جو دنیا میں کام آیا کرتی ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہی یہ واقعہ سنا ہوا ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ یہ نصیحت کیا کرتا تھا کہ تم جلدی لوگوں کو دوست بنالیتے ہو یہ کوئی اچھی بات نہیں۔سچے دوست کا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے اور وہ کہتا کہ آپ کو غلطی لگی ہوئی ہے میرے دوست سب بچے ہیں اور خواہ مجھ پر کیسی ہی مصیبت کا وقت آئے یہ میری مدد سے گریز نہیں کریں گے۔اس نے بہتیرا سمجھایا مگر بیٹے پر کوئی اثر نہ ہوا۔باپ نے کہا کہ میں ساٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا مگر مجھے تو اب تک صرف ایک ہی دوست ملا ہے اور وہ بھی فلاں غریب شخص جسے اس کا بیٹا حقارت سے دیکھا کرتا تھا اور اپنے باپ سے کہا کرتا کہ آپ اتنے بڑے ہو کر اس سپاہی سے کیوں محبت رکھتے ہو ؟ اور باپ ہمیشہ یہی کہتا کہ مجھے تمام عمر میں اگر کوئی سچا دوست ملا ہے تو یہی ہے۔آخر ایک دن اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم میری بات نہیں مانتے تو تجربہ کر لو اور اپنے دوستوں سے جا کر کہو کہ میرے باپ نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ہے۔میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں، میرے لئے رہائش اور خوراک کا انتظام کر دو۔اس نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ وہ ایک ایک کے پاس گیا۔مگر جس دوست کے پاس بھی جاتا وہ پہلے تو کہتا کہ آپ نے بڑی عزت افزائی فرمائی سنائیے آپ کا کیسے آنا ہوا؟ اور جب یہ کہتا کہ میرے باپ نے مجھے نکال دیا ہے اب میں آپ کے پاس آیا ہوں تا کہ آپ میری رہائش وغیرہ کا انتظام کر دیں تو