خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 24

خطبات محمود ہیں۔5 24 $ 1940 خدا کی رحمتیں ہوں اس شخص پر اس نے عشق کا ایک ایسا نمونہ قائم کیا کہ قیس اور مجنوں کا عشق اگر اس میں کوئی حقیقت تھی بھی اس کے عشق کے مقابل پر مرجھا کر رہ جاتا ہے۔اس حقیقی محبت کے مظاہرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں دلیلیں نہیں پوچھی جاتیں۔وہاں انسان پہلے اطاعت کا اعلان کرتا ہے پھر یہ سوچتا ہے کہ میں اس حکم پر کس طرح عمل کروں۔یہی کیفیات انبیاء کی ہوتی ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کا پہلا کلام اترتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں اتنی ہوتی ہے اتنی ہوتی ہے کہ وہ دلیل بازی نہیں کرتے اور جب خدا کی آواز ان کے کانوں میں پہنچتی ہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ اے ہمارے رب! کیا تو ہم سے ہنسی کر رہا ہے ؟ کہاں ہم اور کہاں یہ کام۔بلکہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بہت اچھا اور یہ کہہ کر کام کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد سوچتے ہیں کہ اب انہیں کیا کرنا چاہئے۔یہی آنحضرت صلی ا م نے کیا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رات کیا۔خدا نے کہا اٹھ اور دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا ہو اور وہ فوراً کھڑے ہو گئے اور پھر سوچنے لگے کہ اب میں یہ کام کس طرح کروں گا؟ پس آج سے پچاس سال پہلے کی وہ تاریخی رات جو دنیا کے آئندہ انقلابات کے لئے زبر دست حربہ ثابت ہونے والی ہے، جو آئندہ بننے والی نئی دنیا کے لئے ابتدائی رات اور ابتدائی دن قرار دی جانے والی ہے اگر ہم اس رات کا نظارہ سوچیں تو یقینا ہمارے دل اس خوشی کو بالکل اور نگاہ سے دیکھیں۔ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ یہ خوشی انہیں کس گھڑی کے نتیجہ میں ملی، یہ مسرت انہیں کس پل کے نتیجہ میں حاصل ہوئی اور کس رات کے بعد ان پر کامیابی و کامرانی کا یہ دن چڑھا۔یہ خوشی اور یہ مسرت اور یہ کامیابی و کامرانی کا دن ان کو اس گھڑی اور اس رات کے نتیجہ میں ملا جس میں ایک تن تنہا بندہ جو دنیا کی نظروں میں حقیر اور تمام دنیوی سامانوں سے محروم تھا اسے خدا نے کہا کہ اٹھ اور دنیا کی ہدایت کے لئے کھڑا ہو۔اور اس نے کہا اے میرے رب! میں کھڑا ہو گیا۔یہ وہ وفاداری تھی ، یہ وہ محبت کا صحیح مظاہرہ تھا جسے خدا نے قبول کیا اور اس نے اپنے فضل اور رحم سے اس کو نوازا۔رونا اور ہنسنا دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی