خطبات محمود (جلد 21) — Page 26
* 1940 26 خطبات محمود وہ یہ سنتے ہی کوئی بہانہ بنا کر اندر چلا جاتا۔غرض اسی طرح اس نے سارے دوستوں کا چکر لگالیا اور آخر باپ کے پاس آکر کہا کہ آپ کی بات ٹھیک نکلی۔میرے دوستوں میں سے ایک بھی تو نہیں جس نے مجھے منہ لگایا ہو۔باپ نے کہا اچھا تم نے اپنے دوستوں کا تو تجربہ کر لیا اب آج کی رات میرے دوست کا بھی تجربہ کر لینا۔چونکہ وہ امیر آدمی تھا اس لئے وہ اپنے دوست کے مکان پر نہیں جایا کرتا تھا اکثر وہی اس کے مکان پر آجاتا مگر اس رات وہ اچانک بیٹے کو ساتھ لے کر اپنے دوست کے مکان پر گیا اور دروازہ پر دستک دی۔آدھی رات کا وقت تھا اس نے پوچھا کون؟ اس نے اپنا نام بتایا کہ میں ہوں۔وہ کہنے لگا بہت اچھا ذرا ٹھہریئے میں آتا ہوں۔یہ باہر انتظار کرنے لگ گئے مگر کافی وقت گزر گیا اور وہ اندر سے نہ نکلا۔یہ دیکھ کر بیٹا کہنے لگا جناب ! آپ کا دوست بھی آخر ویسا ہی نکلا۔باپ کہنے لگا ذرا ٹھہر وہ مایوس نہ ہو دیر لگانے کی کوئی وجہ ہو گی۔آخر کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد وہ دوست باہر نکلا۔اس کی حالت یہ تھی کہ اس نے گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی ایک ہاتھ میں روپوں کی تھیلی تھی اور دوسرے ہاتھ سے اس نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور کہنے لگا معاف کیجئے مجھے دیر ہو گئی۔اصل بات یہ ہے کہ جب مجھے آپ کی آواز آئی تو میں نے سمجھا کہ ضرور کوئی بڑا کام ہے جس کے لئے آپ رات کو میرے پاس آئے ہیں۔میں نے سوچا کہ آخر آپ کو مجھ سے اس وقت کیا کام ہو سکتا ہے؟ اور میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ دنیا میں مصیبتیں آتی رہتی ہیں اور بعض دفعہ بڑے بڑے امیر آدمی بھی بلا میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔پس میں نے سمجھا کہ شاید کوئی بیمار ہے جس کی خدمت کے لئے مجھے بلایا ہے اس لئے میں نے فوراً اپنی بیوی کو جگایا اور کہا کہ میرے ساتھ چل ممکن ہے کسی خدمت کی ضرورت ہو۔پھر میں نے سوچا ممکن ہے کسی دشمن سے مقابلہ ہو جس میں میری جان کی ضرورت ہو سو اس خیال کے آنے پر میں نے تلوار نکال کر گلے میں لٹکالی کہ اگر جانی قربانی کی ضرورت ہو تو میں اس کے لئے بھی حاضر ہوں۔پھر میں نے سوچا کہ آپ امیر تو ہیں ہی مگر بعض دفعہ امراء پر بھی ایسے اوقات آجاتے ہیں کہ وہ روپوں کے محتاج ہو جاتے ہیں۔پس میں نے سوچا کہ شاید اس وقت آپ کو روپوں کی ضرورت ہو میں نے ساری عمر تھوڑا تھوڑا جمع کر کے کچھ روپیہ حفاظت سے رکھا ہوا تھا اور اسے زمین میں ایک طرف دبا دیا تھا اس خیال کے