خطبات محمود (جلد 21) — Page 240
$1940 240 خطبات محمود بیماری میں ان کی صحت کے لئے کتنی دعائیں کیں۔ہمارے سلسلہ کے اخبارات کے فائل اس پر گواہ ہیں مگر کیا مولوی عبد الکریم صاحب تندرست ہو گئے ؟ اور کیا اس کے باوجود آپ نے دنیا کو چیلنج دیا ہے یا نہیں کہ مجھے قبولیت دعا کا معجزہ دیا گیا ہے اور اس نشان میں میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔اب کیا کوئی مخالف اگر یہی بات پیش کرے کہ جب مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق آپ کی دعا قبول نہ ہوئی تو آپ نے قبولیت دعا کے نشان میں مقابلہ کرنے کا چیلنج کس طرح دیا؟ تو کیا اس کی یہ بات معقول ہو گی ؟ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی صحت کے لئے بہت دعائیں کیں اور آپ کو ان سے اس قسم کا تعلق تھا کہ جب وہ فوت ہوئے تو گو آپ کی عادت میں یہ بات داخل تھی کہ آپ ہمیشہ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ جاتے اور عشاء تک مختلف دینی مسائل پر باتیں کرتے رہتے۔(مولوی عبد الکریم ایسے موقع پر ہمیشہ آپ کے دائیں طرف بیٹھا کرتے تھے ) جب مولوی صاحب کی وفات ہو گئی تو آپ نے مغرب کے بعد مسجد میں بیٹھنا بند کر دیا۔ایک دفعہ بعض لوگوں نے عرض کیا کہ حضور پہلے مغرب کے بعد مسجد میں تشریف رکھا کرتے تھے اور مختلف دینی مسائل بیان کیا کرتے تھے جس سے آنے والے مہمانوں اور دوسرے لوگوں کو بہت کچھ فائدہ ہو تا تھا مگر اب حضور نے بیٹھنا بند کر دیا ہے ہماری خواہش ہے کہ حضور پھر اس سلسلہ کو جاری فرما دیں کیونکہ لوگوں کو حضور کے نہ بیٹھنے کی وجہ سے بہت تکلیف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اب مجھ سے بیٹھنا برداشت نہیں ہو سکتا کیونکہ جب میری نظر اس طرف جاتی ہے جہاں مولوی عبد الکریم صاحب بیٹھا کرتے تھے تو میرے دل کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔اسی طرح ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد جب بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس کے لئے کتنی ہی دعائیں کیں مگر ان دعاؤں کے باوجود وہ بھی فوت ہو گیا کیونکہ خدا کی مشیت یہی تھی۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ پہلے مولوی عبد الکریم صاحب کے لئے آپ نے دعائیں کیں مگر وہ قبول نہ ہوئیں اور مولوی صاحب فوت ہو گئے۔پھر مبارک احمد کے لئے آپ نے دعائیں کیں مگر وہ بھی قبول نہ ہوئیں اور مبارک احمد فوت ہو گیا۔ایسی حالت میں