خطبات محمود (جلد 21) — Page 241
$1940 241 خطبات محمود دنیا کو چیلنج دینے کے معنی کیا ہوئے ؟ اور کس طرح معلوم ہوا کہ آپ کی دعائیں زیادہ سنی جاتی ہیں ؟ بلکہ اس سے بھی پہلے بشیر اول فوت ہوا اور آپ نے اس کے لئے بہت دعائیں کیں۔یہ تو آپ کو اس کی وفات پر معلوم ہوا کہ جس لڑکے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی ہے اس کا مصداق بشیر اول نہیں لیکن جب تک وہ زندہ رہا آپ کا یہی خیال تھا کہ وہی موعود لڑکا ہے اور آپ نے نہ صرف خود اس کے لئے دعائیں کیں بلکہ دوسروں سے بھی کروائیں مگر پھر بھی وہ فوت ہو گیا۔پھر آتھم کے متعلق پیشگوئی کے وقت جماعت کی جو حالت تھی وہ ہم سے مخفی نہیں۔میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا اور میری عمر کوئی پانچ ساڑھے پانچ سال کی تھی مگر مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے کہ جب آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آیا تو کتنے کرب اور اضطراب سے دعائیں کی گئیں۔میں نے تو محرم کا ماتم بھی کبھی اتنا سخت نہیں دیکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک طرف دعا میں مشغول تھے اور مولوی عبد الکریم صاحب اور سلسلہ کے بعض اور بزرگ مسجد میں جمع ہو کر دعا کر رہے تھے اور تیسری طرف بعض نوجوان ( جن کی اس حرکت پر بعد میں بُرا بھی منایا گیا جہاں حضرت خلیفہ اول مطب کیا کرتے تھے اور آجکل مولوی قطب الدین صاحب بیٹھے ہیں وہاں اکٹھے ہو گئے اور جس طرح عورتیں بین ڈالتی ہیں اس طرح انہوں نے بین ڈالنے شروع کر دیئے۔ان کی چھینیں سو سو گز تک سنی جاتی تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اللہ آنتظم مر جائے یا اللہ آ تم مر جائے۔مگر اس کہرام اور آہ و زاری کے نتیجہ میں آتھم تو نہ مرا پھر کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ جب ایسے معاملات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں قبول نہ ہوئیں تو آپ کا دنیا کو قبولیت دعا کے نشان میں مقابلہ کا چیلنج دینا نا جائز تھا؟ غرض اگر یہ صحیح ہے کہ دعاؤں کی قبولیت کا دعویٰ اسی شخص کا صحیح سمجھا جا سکتا ہے جس کا کبھی کوئی نقصان نہ ہوا ہو اور نہ اسے کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہو تو پھر تو کوئی نبی بھی ایسا نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول ہوئیں۔سب سے بڑے نبی ہیں مگر میں بتا چکا ہوں کہ آپ کی اولاد بھی فوت ہوئی۔اسی طرح آپ کی آنحضر