خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 239

$1940 239 خطبات محمود کہ وہ ایک قبر پر بیٹھی بین ڈال رہی ہے۔رسول کریم صلی یکم اس کے قریب گئے اور فرمایا بڑھیا کیا ہوا؟ اس نے کہا میر ابچہ فوت ہو گیا ہے۔رسول کریم صلی الیم نے فرمایا بڑھیا صبر کرو خدا کی یہی مشیت تھی۔بڑھیا نے شدت غم میں آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا کہ کون شخص اس سے باتیں کر رہا ہے۔اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ ایسی حالت میں انسان کی آنکھوں میں آنسو آئے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ اپنے سر کو جھکائے ہوئے ہوتا ہے اس نے رسول کریم صلی ظلم کو پہچانا نہیں تھا۔کہنے لگی میاں دوسروں کے لئے نصیحت ہوتی ہے ورنہ جس کے دل کو لگتی ہے وہی جانتا ہے کہ یہ صدمہ کتنا سخت ہوتا ہے۔رسول کریم صلی للی کم نے فرمایا مائی میرے گیارہ بچے فوت ہو چکے ہیں اور یہ کہہ کر آپ اپنے مکان کی طرف تشریف لے گئے۔بعد میں کسی نے اسے بتایا کہ بد بخت وہ تو رسول کریم صلی ہی کم تھے۔وہ یہ سنتے ہی دوڑتی ہوئی آپ کے پاس پہنچی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میں نے صبر کیا۔آپ نے فرمایا الصَّبُرُ لِاَوَّلِ وَهُلَةٍ صبر تو وہی ہے جو شروع میں کیا جائے ورنہ رو دھو کر تو سب کو صبر آجاتا ہے۔6 ایک دفعہ آپ کا ایک نواسہ فوت ہو گیا۔رسول کریم صلی الی ایم نے جب اسے دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو بہنے لگ گئے۔ایک صحابی کہنے لگا یار سول اللہ آپ تو دوسروں کو صبر کی تلقین کیا کرتے ہیں اور خو د روتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ کریم نے فرمایا میری آنکھیں روتی ہیں الله اور یہ رحمت کی علامت ہے۔7 اگر تمہارا دل خدا تعالیٰ نے سخت بنادیا ہے تو میں کیا کروں ؟ غرض درد آپ کے دل میں تھا اور اس وجہ سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ رسول کریم ملا لیم نے اپنے بچوں کے لئے دعائیں نہیں کی ہوں گی مگر باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی ا ہم نے ان بچوں کے لئے دعائیں کیں آپ کے گیارہ بچے فوت ہو گئے۔(روایات میں اختلاف ہے بعض میں کم تعداد کا ذکر ہے۔) اس ٹریکٹ کے لکھنے والے نے میری بھی گیارہ دعائیں ایسی شمار کی ہیں جو اس کے خیال میں قبول نہیں ہوئیں اور رسول کریم صلی علی ایم کے بھی گیارہ بچے ہی فوت ہوئے تھے۔اب کیا یہ کہا جائے گا کہ آپ نے ان کے متعلق دعائیں نہیں کی تھیں یا یہ کہا جائے گا کہ رسول کریم صلی الی یم نے دعائیں تو کیں مگروہ قبول نہ ہوئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی