خطبات محمود (جلد 21) — Page 23
$1940 23 خطبات محمود ها الله رسول کریم صلی الم سے فرمایا کہ اب شراب حرام کی جاتی ہے۔آپ مسجد میں آئے اور جو لوگ اُس وقت موجود تھے ان سے کہا کہ اب خدا نے شراب حرام کر دی ہے اور ایک شخص سے کہا کہ جاؤ مدینہ کی گلیوں میں شراب کی حرمت کا اعلان کر دو۔اُس وقت مدینہ میں ایک خوشی کی مجلس منعقد ہو رہی تھی اور حسب دستور اس مجلس میں شراب کے مٹکے رکھے ہوئے تھے۔لوگ باتیں کرتے ، گاتے بجاتے اور شر اہیں پیتے جاتے تھے۔ایک بہت بڑا مٹکا وہ ختم کر چکے تھے اور دو مٹکے شراب کے ابھی باقی تھے۔تم سمجھ سکتے ہو کہ جہاں شراب کا ایک مٹکا ختم ہو چکا ہو وہاں دماغوں کی کیا کیفیت ہو گی ؟ اُس وقت وہ لوگ نشہ میں آئے ہوئے تھے اور ان کے ہوش و حواس بہت کچھ زائل ہو چکے تھے کہ بازار میں سے اس شخص کی یہ آواز آئی کہ محمد صلی نی نی نے شراب حرام کر دی ہے۔انہی شراب سے مدہوش لوگوں میں سے ایک شخص گھبرا کر اٹھا اور کہنے لگا میرے کان میں ایک آواز آئی ہے جو یہ کہہ رہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی علیم نے شراب حرام کر دی ہے۔میں باہر نکل کر دیکھوں تو سہی یہ آواز کیسی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر اتنے پر ہی بس ہو جاتی تو یہ رسول کریم صلی علیم کی اس محبت کا جو صحابہ کے دلوں میں تھی معجزانہ نمونہ ہو تا۔شراب کے نشہ میں بھلا کون دیکھتا ہے کہ کیسی آواز آرہی ہے !عام حالات میں تو وہ ہنتے اور کہتے کہ شراب کو کون حرام کر سکتا ہے؟ پس اگر بات یہیں تک رہتی تب بھی یہ رسول کریم صلی ال نیم کی محبت کا ایک معجز نما ثبوت ہوتی مگر اسی پر بس نہیں۔جب اس نے یہ کہا کہ میں دیکھوں تو سہی یہ آواز کیسی آرہی ہے تو ایک اور آدمی جو شراب کے نشہ میں مست بیٹھا ہوا تھا اور شراب پی پی کر اس کے دماغ میں نشہ غالب آرہا تھا یکدم اس حالت سے بیدار ہوا اور بولا کیا کہا تم نے ؟ ہمارے کان میں آواز پڑتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی علیم نے شراب حرام کر دی اور تم کہتے ہو تحقیق کرو اس کی بات کہاں تک سچ ہے۔خدا کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گا میں پہلے شراب کا مٹکہ توڑوں گا بعد میں پوچھوں گا۔یہ کہہ کر اس نے سونٹا پکڑ کر زور سے مٹکوں کو مارا اور انہیں توڑ دیا اور شراب صحن میں پانی کی طرح بہنے لگی۔اس کے بعد اس نے دروازہ کھول کر اعلان کرنے والے سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ مجھے رسول کریم صلی الم نے حکم دیا ہے کہ اعلان کر دوں کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔اس نے کہا ہم تو پہلے ہی شراب کے مٹکے توڑ چکے الله سة