خطبات محمود (جلد 21) — Page 179
1940 179 خطبات محمود اور جسمانی موت نہ تھی اور ابھی وہ حقیقتا زندہ تھے) میں نے دیکھا کہ کبھی وہ اس سوراخ میں سے سر نکالتا ہے اور کبھی زبان ہلاتا ہے ، کبھی ادھر اور کبھی اُدھر رخ کرتا ہے۔گویا چاہتا ہے کہ ہم ذرا غافل ہوں تو حملہ کر دے۔جو نہی وہ سر نکالتا ہے فرشتہ اس کو ڈراتا ہے اور وہ جھٹ اندر چلا جاتا ہے۔اتنے میں یکدم یوں معلوم ہوا کہ ایک کی بجائے دو سانپ ہیں اور گویا دوسرا سانپ جسے میں نے مردہ سمجھا تھاوہ بھی در حقیقت زندہ تھا۔چنانچہ پہلے تو ایک ہی سوراخ تھا مگر یکدم ایک اور نمودار ہو گیا اور دونوں سانپ ان سوراخوں میں سے گودے اور زمین پر گرتے ہی آدمی بن گئے جو بڑے قوی الجثہ ہیں۔اس پر فرشتہ نے کسی عجیب سی زبان میں کوئی بات کی جسے میں نہیں سمجھ سکا۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اس نے کسی زبان میں جسے میں نہیں جانتا دعائیہ الفاظ کہے ہیں اور وہ الفاظ ہاکی پاکی ” کے الفاظ سے مشابہہ ہیں مگر چونکہ وہ غیر زبان ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہی الفاظ ہیں یا ان سے ملتے جلتے کوئی اور الفاظ۔اس کے دعائیہ الفاظ کا اس کی زبان سے جاری ہونا تھا کہ میں نے دیکھا دونوں حملہ آور قید ہو گئے اور ان میں سے جو میرے قریب تھا میں نے دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھ اوپر اٹھے اور ان میں ہتھکڑیاں پڑ گئیں۔مگر اس طرح کہ ایک کلائی دوسری کے اوپر ہے اور دایاں ہاتھ بائیں طرف کر دیا گیا ہے اور بایاں دائیں طرف کر دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ایک کمان دونوں ہاتھوں پر رکھی گئی ہے۔اس کے ایک سرے سے ایک ہاتھ کی انگلیاں اور دوسرے سرے سے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں باندھ دی گئی ہیں۔دوسرے آدمی کو کس طرح قید کیا گیا ہے میں اچھی طرح نہیں دیکھ سکا۔پھر فرشتہ نے مجھے اشارہ کیا کہ باہر آجاؤ۔یہ خواب جب میں نے دیکھا یہ لوگ ابھی پوشیدہ تھے اور اندر ہی اندر اتحاد عالمین کے نام سے اپنی گدی بنانے کی سکیمیں بنا رہے تھے۔ان کے اندر خود پسندی اور خودستائی تھی اور اپنی ولایت بگھارتے پھرتے تھے۔لوگوں سے کہتے تھے ہم سے دعائیں کر اؤ حالا نکہ خلافت کی موجودگی میں اس قسم کی گدیوں والی ولایت کے کوئی معنے ہی نہیں۔جیسے گوریلا وار کبھی جنگ کے زمانہ میں نہیں ہوا کرتی ، چھاپے اسی وقت مارے جاتے ہیں جب با قاعدہ جنگ کا زمانہ نہ ہو۔خلفاء کے زمانہ میں اس قسم کے ولی نہیں ہوئے۔نہ صرف حضرت ابو بکر کے زمانہ میں کوئی ایسا ولی ہوا نہ حضرت عمر یا حضرت عثمان یا حضرت علیؓ کے ض