خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 180

$1940 180 خطبات محمود زمانہ میں۔ہاں جب خلافت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے ولی کھڑے کئے کہ جو لوگ ان کے جھنڈے تلے جمع ہو سکیں انہیں کر لیں تا قوم بالکل ہی تتر بتر نہ ہو جائے۔لیکن جب خلافت قائم ہو اس وقت اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔جیسے جب منظم فوج موجود ہو تو گوریلا جنگ نہیں کی جاتی۔پس خلافت کی موجودگی میں ایسی ولایت کا وسوسہ دراصل کبر اور بڑائی ہے۔اس خواب میں جو سانپ میں نے دیکھے ہیں میں سمجھتا ہوں ان میں سے ایک سے مراد اندرونی فتنہ ہے اور ایک سے بیرونی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں قسم کے فتنے اس وقت مل کر حملہ کر رہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ دونوں کو دور کر دے گا اور فرشتوں کے ذریعہ ان کے ہاتھ بند کر دے گا۔انسانی ہتھکڑیاں کوئی چیز نہیں اصل وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لگائی جائیں۔حکومتیں کسی کو نظر بند کرتی ہیں تو اس کے ساتھی موجو د رہتے ہیں جو اس کی آواز کو پہنچاتے رہتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کسی کو ہتھکڑی لگائے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس تحریک کو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ایسے فتنے دراصل جماعت کی بیداری کے لئے ہوتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں ایک طبقہ ایسا ہے جو احمدیت میں داخلہ کے بعد روحانی ترقی کی طرف بہت کم توجہ کرتا ہے وہ اس طرح دنیا کے کاموں میں لگے رہتے ہیں جس طرح احمدیت میں داخلہ سے پہلے تھے۔اسلام دنیا کے کاموں سے روکتا نہیں بلکہ اجازت دیتا ہے۔انبیاء بھی یہ کام کرتے رہے ہیں۔حضرت داؤد علیہ السلام کے کام ثابت ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کام ثابت ہیں وہ زراعت بھی کرتے تھے۔اولیاء اور صحابہ کا کام کرنا بھی ثابت ہے اسلام جس چیز سے منع کرتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اسی کام کا ہو جائے۔بعض لوگ قادیان میں ہجرت کر کے آتے ہیں مگر یہاں آکر دنیا کے کاموں میں ہی لگ جاتے ہیں اور دین کا کام بالکل نہیں کرتے۔میں نے خطبہ پڑھا کہ ہر احمدی تبلیغ کے لئے وقت دے۔مجھے رپورٹ پہنچی ہے کہ بعض دکانداروں نے کہا ہے کہ ہم تبلیغ کے لئے چلے جائیں تو پندرہ روز میں تو ہماری دکان ہی بند ہو جائے گی۔یہ بات کہتے وقت وہ اس بات کو بالکل بھول جاتے ہیں کہ ان کی دکان تو چلی ہی احمدیت کے طفیل ہے۔اگر وہ سال میں 350 دن احمدیت کے طفیل روٹی کھاتے ہیں تو اگر پندرہ دن اس کے لئے بھی قربان کر دیں تو کون سی بڑی بات ہے ؟