خطبات محمود (جلد 21) — Page 178
1940 178 خطبات محمود سامنے ایک بڑھیا عورت جو بہت ہی گريه المنظر ہے کھڑی ہے۔اس نے دو سانپ چھوڑے ہیں جو مجھے ڈسنا چاہتے ہیں۔وہ چار پائی کے نیچے ہیں اور سامنے نہیں آتے تاجب میں نیچے اتروں تو پیچھے سے کود کر ڈس لیں۔میرا احساس یہ ہے کہ ان میں سے ایک چارپائی کے ایک سرے پر ہے اور دوسرا دوسرے سرے پر۔تامیں جدھر سے جاؤں حملہ کر سکیں۔میں کھڑ ا ہو گیا ہوں اور جلدی جلدی کبھی پائنتی کی طرف جاتا ہوں اور کبھی سرہانے کی طرف۔میں خیال کرتا ہوں کہ جب میں پائنتی کی طرف جاؤں گا تو سرہانے کی طرف کا سانپ اس طرف دوڑے گا اور جب سرہانہ کی طرف آؤں گا تو پائنتی والا اس طرف آئے گا اور اس طرح میں ان کو جھانسہ دے کر نکل جاؤں گا۔پانچ سات مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اب دونوں سانپ ایک ہی طرف ہیں اور میں دوسری طرف سے کود پڑا۔جب نیچے اترا تو میں نے دیکھا کہ واقعی وہ دونوں دوسری طرف تھے۔میں فوراً ان کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا ان میں سے ایک نے مجھ پر حملہ کیا اور میں نے اسے مار دیا۔پھر دوسرے نے حملہ کیا اور میں نے اسے مارا مگر میں سمجھتا ہوں ابھی وہ کچھ زندہ ساہی ہے۔اسی جگہ کے پہلو میں ایک علیحدہ جگہ ہے میں ہٹ کر اس کی طرف چلا گیا ہوں۔وہاں ایک نہایت خوبصورت نوجوان ہے جو میں سمجھتا ہوں فرشتہ ہے اور گویا میری مدد کے لئے آیا ہے۔وہ عورت چاہتی ہے کہ اس سانپ کو پکڑ کر مجھے پر پھینکے مگر وہ نوجوان میرے آگے آگیا اور میری حفاظت کرنے لگا۔عورت نے نشانہ تاک کر اس پر مارا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی فوق العادت طاقت کا ہے۔اس نے اسے سر سے پکڑ لیا اور چاقو نکال کر اس کی گردن کاٹ دی۔اس عورت نے پھر اسی کٹی ہوئی گر دن کو اٹھایا اور ہماری طرف پھینکنا چاہتی ہے کبھی اس کی طرف نشانہ باندھتی ہے اور کبھی میری طرف مگر اس فرشتہ نے مجھے پیچھے کر دیا اور خود آگے ہو گیا اور اسے پھینکنے کا موقع نہیں دیتا۔آخر ایک دفعہ اس عورت نے پھینکا مگر فرشتہ آگے سے ایک طرف ہو گیا سامنے کچی دیوار تھی وہ اس دیوار میں لگا اور اس میں سوراخ ہو گیا اور وہ اس سوراخ کے اندر ہی گھس گیا۔میری پیٹھ اس طرف ہے وہ فرشتہ ایک کمرہ کی طرف جو پہلو میں ہے اشارہ کر کے مجھ سے کہتا ہے کہ تم ادھر ہو جاؤ اس سوراخ میں سے یہ سانپ پھر نکلیں گے۔(گویا ان کی موت مجازی تھی