خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 177

خطبات محمود 177 1940 چھوٹے سے لے کر بڑے تک اس سے کانپ رہی ہے اور سب چاہتے ہیں کہ اسے مٹادیں۔یہ بالکل ویسی ہی مثال ہے جو میں نے اندھے اور سو جاکھے کی کئی دفعہ سنائی ہے۔ایک اندھا اور ایک سو جا کھا کھانا کھانے بیٹھے۔اندھے نے خیال کیا کہ سو جا کھا ضرور جلدی جلدی کھاتا ہو گا میں تو دیکھ نہیں سکتا اس لئے جس قدر جلدی چاہے کھا رہا ہو گا۔یہ سوچ کر اُس نے بھی جلدی جلدی کھانا شروع کر دیا۔پھر اس نے خیال کیا کہ اس نے مجھے جلدی جلدی کھاتے دیکھ لیا ہے اس لئے پہلے سے بھی زیادہ جلدی سے کھانے لگا ہو گا اس لئے وہ اور بھی جلدی جلدی کھانے لگا۔پھر اس نے خیال کیا کہ اس طرح جلدی کھاتے بھی اس نے دیکھ لیا ہے اس لئے اب اور کوئی تدبیر اس نے نکالی ہو گی اور وہ غالباً یہ ہو گی کہ یہ دونوں ہاتھوں سے کھانے لگ گیا ہو گا اور یہ سوچ کر اس نے دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔پھر اس نے خیال کیا کہ اس بینا نے اب کوئی اور ترکیب سوچ لی ہو گی جس کے ذریعہ سے کھانے میں سے مجھ سے زیادہ حصہ لے سکے اور خیال کیا کہ وہ ترکیب یہی ہو سکتی ہے کہ ایک ہاتھ سے کھاتا جاتا ہو گا اور دوسرے ہاتھ سے کھانا جھولی میں ڈالتا جاتا ہو گا۔چنانچہ اس نے بھی اسی طرح کرناشروع کر دیا مگر پھر بھی اس کے دل کا وسوسہ نہ گیا۔مگر اور کوئی بات اس کے ذہن میں نہ آئی جس کے ذریعہ سے وہ اس آنکھوں والے کے ساتھ نپٹ سکے۔آخر گھبر اکر اس نے پلاؤ کا طبق اٹھالیا اور بولا کہ بس بھئی اب میرا ہی حصہ رہ گیا ہے۔لیکن اس سارے عرصہ میں آنکھوں والا اس کی حرکات کو دیکھ دیکھ کر ہنس رہا تھا اور اس نے کھانا بالکل چھوڑ رکھا تھا۔یہی حالت ان لوگوں کی ہے۔کوئی بات ہو یہ سمجھتے ہیں ہمیں قتل کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔کسی کو سائیکل پر جاتے دیکھا تو کہا یہ ہمیں مارنے کو آیا ہے، کسی کے ہاتھ میں سوٹی دیکھی تو کہہ دیا یہ ہمارے مارنے کے لئے ہے، کوئی مسکرا رہا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ہمیں مارنا چاہتا ہے۔گویا رات دن جو بات بھی ہوتی ہے وہ ان کو مارنے کے لئے ہوتی ہے۔ابھی یہ جماعت سے نکالے نہیں گئے تھے کہ میں نے ایک خواب دیکھا۔پہلے تو میں سمجھتا تھا کہ اس کا مطلب کچھ اور ہے مگر اب میں سمجھتا ہوں شاید یہ ان کے اور ان کے قماش کے دوسرے لوگوں کے متعلق ہو۔میں نے دیکھا کہ ایک چار پائی ہے جس پر میں بیٹھا ہوں۔