خطبات محمود (جلد 21) — Page 13
$1940 13 خطبات محمود سب حصہ ، یہ سب زائد ہیں۔اس نسبت سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ حلقہ اُس وقت کے اجتماع سے چار گنے سے بھی زیادہ ہو گا۔یہ اس وقت کے جلسہ کے لوگوں کی کل تعداد تھی اور اس تعداد کو اتنا اہم سمجھا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسہ میں متواتر فرمایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام دنیا میں ختم ہو چکا ہے۔مگر آج ہمارے ایک معمولی جمعہ میں اس سے چار گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی موجود ہیں۔تو یہ دونوں باتیں چونکہ ہماری جماعت کے لئے خوشی کا موجب تھیں اس لئے انہوں نے اس سالانہ جلسہ کو دو خوشیوں کا موجب قرار دیا۔ایک خوشی تو یہ کہ پیغام نبوت پچاس سالہ کامیابی کے ساتھ باوجو د دشمنوں کی مخالفت کے ایسی شان و شوکت پیدا کر چکا ہے کہ دنیا اس کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔دوسری خوشی یہ کہ پیغام خلافت پچیس سالہ مخالفت بلکہ شروع خلافت کے وقت کے جماعت کے عمائدین کی مخالفت کے باوجود ترقی کرتا چلا گیا۔یہاں تک کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ دنیا کے تمام حصوں کو منظم کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔دنیا میں جب کسی شخص کو کوئی خوشی پہنچتی ہے یا جب کوئی شخص ایسی بات دیکھتا ہے جو اس کے لئے راحت کا موجب ہوتی ہے تو اگر وہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے تو وہ ایسے موقع پر یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر ہے کہ ہم کو یہ بات حاصل ہوئی اور جب کسی مسلمان کو ایسی خوشی پہنچتی ہے تو وہ اس مفہوم کو عربی زبان میں ادا کرتا اور کہتا ہے الْحَمْدُ للہ۔تو اس جلسہ پر ہماری جماعت نے جو خوشی منائی اس کا اگر خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ یہی بنے گا کہ پیغام نبوت اور پیغام خلافت کی کامیابی پر ہماری جماعت نے اس سال الْحَمْدُ لِلہ کہا۔مگر باقی دنیا اور اسلام کی تعلیم میں ایک فرق ہے۔باقی دنیا الحمد للہ کو اپنی آخری آواز سمجھتی ہے مگر اسلام الحَمدُ لِله کو نہ صرف آخری آواز قرار دیتا ہے بلکہ اس کو ایک نئی آواز بھی قرار دیتا ہے۔اسلامی تعلیم کے مطابق الْحَمدُ للہ کائنات کے آدم اول کی بھی آواز تھی جیسا کہ وہ کائنات کے آدم آخر کی آواز ہے۔اور اس طرح اسلام الْحَمدُ للہ کے ساتھ اگر ایک سلسلہ اور ایک کڑی کو ختم کرتا ہے تو ساتھ ہی دوسرے سلسلہ اور دوسری کڑی کو شروع کر دیتا ہے۔چنانچہ سورہ فاتحہ میں ہم کو یہی بتایا گیا ہے۔وہ الحمد للہ سے شروع ہوتی ہے جس کے معنی