خطبات محمود (جلد 21) — Page 14
$1940 14 خطبات محمود یہ ہیں کہ کامیابی اور خوشی دیکھ کر ایک مسلم کہتا ہے الْحَمْدُ لِله۔مگر الْحَمْدُ لله سورة فاتحہ ، کی آخری آیت نہیں بلکہ سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت ہے اور جب ہم اسے پڑھتے چلے جاتے ہیں تو اس کے درمیان ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔1 یعنی اے ہمارے رب الحمد کے نتیجہ میں ایک اور پروگرام ہمارے سامنے آگیا ہے اور ایک نئے کام کی بنیاد ہم نے ڈال دی ہے۔ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم پورے طور پر اس کام کو چلانے کی کوشش کریں گے اور ہم تجھ سے چاہتے ہیں کہ تو اس راہ میں ضروری سامان ہمیں مہیا کر اور ہماری نصرت اور تائید فرما۔پس الحَمدُ لله کو پہلے رکھ کر اور إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کو بعد میں رکھ کر اسلام نے یہ بتایا ہے کہ کوئی حمد اُس وقت تک حقیقی حمد نہیں کہلا سکتی جب تک اس کے ساتھ ایک نئے کام کی بنیاد نہ ڈالی جائے۔ہر حمد جو حمد پر ختم ہو جاتی ہے وہ در حقیقت حمد نہیں بلکہ ناشکری ہے۔لفظ چاہے حمد کے ہوں مگر حقیقت اس میں ناشکری کی پائی جاتی ہے۔رسول کریم صل ان کی زندگی میں اس کی ایک مثال پائی جاتی ہے۔آپ رات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے اور بعض دفعہ اتنی لمبی دیر نماز میں کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے۔جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے اور آپ میں اتنی طاقت نہ رہی کہ آپ اس مجاہدہ کو آسانی سے برداشت کر سکیں تو ایک دفعہ آپ کی ایک بیوی نے کہا کہ آپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں؟ کیا آپ کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تیرے اگلے پچھلے ذنوب معاف فرما دیئے ہیں ؟ اور کیا آپ کے ساتھ اس کی بخشش کے وعدے نہیں ؟ جب ہیں تو آپ اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں؟ رسول کریم صلی للی نیلم نے جواب میں فرمایا کہ اے عائشہ ( حضرت عائشہ کی طرف سے ہی یہ سوال تھا ) أَفَلَا اكُونَ عَبْدَ اشَكُورًا-2 کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ جب خدا نے مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا ہے اور اس کا یہ احسان تقاضا کرتا ہے کہ میں آگے سے بھی زیادہ اس کی عبادت کروں اور آگے سے بھی زیادہ خد اتعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگ جاؤں۔رسول کریم صلی اللہ نیلم نے اس میں یہی بتایا ہے کہ انعام کے نتیجہ میں الحمد مومن کا آخری قول نہیں ہو تا بلکہ وہ آخری قول بھی ہوتا ہے اور نئے کام کی بنیاد بھی ہوتا ہے۔بہت لوگ جو اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں ان پر جب کوئی احسان ہوتا ہے تو